کاہنہ میں تیس لاکھ روپے واپس مانگنے پر سفاک ملزم نے باپ اور دو بیٹوں کو گھر میں گھس کر قتل کردیا

7
0
Share:



لاہور:

کاہنہ کی حدود میں تیس لاکھ روپے واپس مانگنے پر سفاک ملزم نے باپ اور دو بیٹوں کو گھر میں گھس کر قتل کردیا، لاشیں بیس دن بعد گھر سے بدبو آنے پر ملیں، پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا جو کہ باپ کا دوست تھا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کاہنہ کی حدود میں گھر سے بدبو آنے پر علاقہ مکینوں نے پولیس کو اطلاع دی پولیس پہنچی تو گھر سے باپ اور دو بیٹوں کی لاشیں ملیں۔

 

پولیس کے مطابق مقتولین کو گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا گیا، مکان سے بدبو آنے پر سوسائٹی کی سیکیورٹی نے پولیس کو اطلاع دی،

خاندانی عداوت، دیرینہ دشمنی سمیت مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کی جارہی ہے، لاشیں گلی سڑی ہیں جو بظاہر 20 دن پرانی لگتی ہیں۔ 

علاقہ مکین کے مطابق باپ کی لاش گھر کے گراؤنڈ فلور کے کمرے میں پائی گئی جبکہ دونوں بیٹوں کی نعش گھر کے پہلے فلور کے کمرے میں پائی گئی، باپ بیٹوں کو شلوار کے اِزاربند کے ساتھ گلا دبا کر مارا گیا، باپ سرکاری ملازم ریٹائرڈ تھا جبکہ بڑا بیٹا کامران بھی لیبر ڈیپارٹمنٹ کا ملازم تھا۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ مقتولین کی سرگودھا میں خاندانی رنجش بھی تھی، ڈیڑھ سال قبل ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا، والدہ کے انتقال کے وقت بھی خاندان کے زیادہ لوگ نہیں آئے تھے، گھر کے بیرونی حصے پر دو سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے تھے، قاتل جاتے وقت سی سی ٹی وی کیمروں کی اسٹوریج ڈیوائس اور مقتولین کے فون بھی ساتھ لے گئے تھے۔

دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ باپ اور دو بیٹوں کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم روحیل مقتول کامران کا دوست تھا، ملزم نے پیسوں کے تنازع پر باپ اور بیٹوں کو قتل کیا، ملزم روحیل نے مقتول کامران کے 30 لاکھ واپس کرنے تھے، کامران کی جانب سے پیسے واپس مانگنے پر ملزم نے باپ اور دو بیٹوں کو قتل کیا۔

پولیس کا مقتولین کے لواحقین سے رابطہ ہوگیا، پولیس کے مطابق مقتولین کے لواحقین لاہور پہنچ کر کاہنہ پولیس کو اندراج مقدمہ کی درخواست دیں گے، مقتولین سرگودھا کے رہائشی تھے جو کہ کچھ عرصہ قبل  لاہور منتقل ہوئے تھے۔



Share:

Leave a reply