وفاقی حکومت کی نظریں صرف بڑے بھائیوں تک محدود ہیں، مزمل اسلم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی نظریں صرف بڑے بھائیوں تک محدود ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ اب تک 10 ارب روپے صحت کارڈ کے لیے فراہم کرچکے ہیں، سیاسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بجٹ تاخیر کا شکار ہوا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ نگراں حکومت کے بجٹ پاس کرنے پر اعتراضات بھی سامنے آئے، نگراں حکومت نے کوئی غلط اقدام کیا ہے تو وہ خود جوابدہ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے مالی حالات کو بہتر کرنا ہے، ایف بی آر کی اس سال کلیکشن بہت اچھی تھی۔ صحت کارڈ، گندم کی خریداری، رمضان پیکج اور دیگر اقدامات کیے ہیں، امن و امان کی بہتر صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر کوئی سمجھوتا نہیں، امن و امان اگر خیبرپختونخوا میں ٹھیک ہوگا تو پورے پاکستان کا ٹھیک ہوگا، بجلی یہاں سے سستی خرید کر مہنگی فروخت کی جارہی ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت بقایاجات کی مد میں تعاون نہیں کر رہی، امن و امان کے لیے پولیس کو رقوم جاری کردی ہیں، صوبے کا بجٹ اتنا پیچیدہ نہیں ہوتا جتنا وفاق کا ہوتا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ فاٹا انضمام ہوا تو ضم اضلاع کیلئے فنڈز ہمیں ملنے چاہئیں، ہمارے اخراجات میں سب سے بڑا حصہ تنخواہوں کا ہے، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نان سیلری اخراجات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت نے دو مرتبہ عبوری بجٹ دیا، وفاق ہمیں پیسے نہیں دے رہا ہے، تمام مسائل کے باوجود کے پی کا قرضہ مجموعی طور پر ساڑھے 600 ارب روپے ہے، ہم قرض لے کر ترقیاتی کام کر رہے ہیں۔

 مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پنجاب اور سندھ کے فنڈز کو ہاتھ تک نہیں لگاتی، بدقسمتی سے وفاقی حکومت کے پی کے فنڈز کو نظر انداز کرتی ہے۔

Leave a Comment