عورت مارچ اسلام اور حقوق نسواں

0
94


عورت مارچ، اسلام اور حقوق نسواں

8 مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا، ملک بھر کے شہروں میں خواتین کی پریڈیں ہوئیں، ریلیاں ہوئیں، تقریریں ہوئیں اور ہر طرف پلے کارڈز ہی پلے کارڈز تھے۔ جس کی تیاریاں گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں جاری تھیں۔ ہم نے دیکھا کہ جسے صنفِ نازک کہہ کہہ کر زمانے کی نازک سی شاخ پر بٹھا دیا گیا تھا وہ اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ میدانِ عمل میں اتری اوراپنے ہونے کا سکہ منوایا۔ اس موقع پر ہونے والے سیمینارز، تقاریب اور پروگراموں میں جہاں خواتین کے حقوق، ان کو درپیش مسائل، معاشرہ میں ان کے کردار اور ان کی ترقی کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی وہاں عورت مارچ کے نام پر اسلام آباد، کراچی اور لاہور  میں ریلیاں نکالی گئیں جن میں دین سے دور اور مغرب زدہ خواتین نے انتہائی نا مناسب سلوگنز والے پمفلٹ اٹھائے ہوئے تھے اسی طرح خواتین کے حقوق کی اڑ میں اسلام اور پاکباز ہستیوں کے حوالہ سے گستاخانہ زبان استعمال کی گئی اس سے پوری قوم کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں ،جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے  

اسلام وہ آفاقی دین ہے جس نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام دیا تمام معاملات  میں مرد و عورت کے حقوق و ذمہ داریوں کا تعین کیا ۔ ایک نظر اس ضابطۂ حیات پر اگر ڈالی جائے جو 1400 سال پہلے عطا کیا گیا ہے تو یقیناً سمجھ آ جائے گا کہ اسلام نے عورت کو جو تحفظ، عزت اور مقام عطا کیا ہے وہ کہیں اور ہے ہی نہیں۔ جس چادر اور چار دیواری کو آج بوجھ سمجھا جا رہا ہے اس سے آزادی حاصل کرنے والی خواتین یہ نہیں جانتیں کہ آزادی کے نام پر کون کون سے طوق گلے میں ڈالے گھوم رہی ہیں۔آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کے حقوق کے بارے میں جو کاوش اہل مغرب نے کی ہے اس سے  عورت خود مظلومیت اور استحصال کا شکار ہو کررہ گئی ہے۔ مغربی معاشرہ میں آ ج مردوں اور عورتوں میں مساوات کا جو ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے وہ محض کھوکھلا نعرہ ہے نئی نسل پر اس کے بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔معاشرہ تقسیم ہورہا ہے حقوق نسواں کے نام پر جو سرگرمیاں یورپ اور امریکہ میں جاری ہیں وہ خواتین کے احترام میں اضافے کی بجائے ان کی مسلسل تحقیر کا باعث بن رہی ہیں۔

عورت کو صرف اسلام نے تحفظ، عزت، منفرد مقام و درجہ دیا اور اسلامی معاشرت نے اسے ثابت کیا۔ مگر جوں جوں مغرب سے آشنائی بڑھنے لگی اور میڈیا کا دائرہ عمل بتدریج وسیع ہوتا گیا۔ تب سے مشرقی خواتین کا ایک مخصوص طبقہ اس بظاہر پرکشش زندگی سے متاثر ہونا شروع ہوا اور اسلامی تاریخ ہمیشہ اس بات کو برداشت کرتی آئی ہے کہ اسلام مخالف قوتوں نے کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا کہ جس سے اس دین کے ماننے والوں کو تکلیف یا اذیت پہنچائی جا سکے۔ جس کا نتیجہ خواتین کے حوالے سے تو یہی ہوا کہ مغرب کی  چمک دمک اور طرزِ زندگی نے خواتین کے اس گروہ کو جو دین سے دوری کی وجہ سے پہلے ہی اپنے مقام سے نا آشنا تھیں اور چند لوگوں کی نا مناسب پابندیوں کے باعث مغرب سے متاثر ہوتی چلی گئیں۔ یہ صدی اس حوالے سے بڑی اہم رہی۔ آج مغربی معاشرہ گھریلو زندگی کے حوالے سے جس حالت میں ہے اس سے بے شمار نفسیاتی ، ذہنی اور جسمانی مسائل نے جنم لیا ہیں۔ ایک صنفِ نازک یہ حق رکھتی ہے کہ اس پر عزت کی نگاہ ڈالی جائے، اسے مساوی حقوق دئیے جائیں، تعلیم کے حوالے سے تو ہماری خواتین ہی آگے ہیں اور پھر اگر وہ علم کے بل پر کوئی کارہائے نمایاں کرنا چاہیں تو اس پر قدغن نہ لگائی جائے۔ مغربی معاشروں کی تقلید میں ہمارے معاشرے میں جو انحطاط کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے اس کو اجاگر کرنے میں بیرونی امداد حاصل کرنے والی نام نہاد این جی اوز پیش پیش ہیں۔ جہاں عورتوں نے نام نہاد ترقی، روشن خیالی اور مردوں کی برابری کے جنون میں مبتلا ہو کر آزادی کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا ہے اور ان فرائض سے بھی غافل ہوگئی ہیں جو کہ معاشرتی حوالے سے ان پر لاگو ہوتے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے عالمی یومِ خواتین کا اسے ضرور منائیے کہ اظہارِ یکجہتی تو یقیناً ضروری ہے،  مگر خیال رہے کہ اپنے محور سے ہٹے تو قیامت ہی برپا ہو گی

عورت آزادی مارچ مناؤ ضرور مناؤ مگر عورت کی اس حیاء کیلئے جسکے ساتھ وہ تعلیم۔حاصل کرنے درس گاہ جاتی ہے جس حیاء کے ساتھ وہ آج کے دور میں درندوں جیسی بے حیاء مردوں کی نظریں برداشت کر کے محنت کرتی ہے عورت کی سچائی یہ ہے کہ وہ مرد کی بے وفائی سہنے کے باوجود اس رشتے کو اپنی اولاد کی خاطر نبھاتی ہے ایسی عورت کی عظمت کو سلام پیش کرو اسکو بدنام مت کرو۔کشمیر ،فلسطین ،شام ،بھارت کی ان مظلوم عورتوں کیلئے آزادی مارچ کرو جو ظلم و جبر کا شکار ہیں۔مقبوضہ کشمیر اور دہلی میں وہ مسلمان لڑکیاں جو ریپ کر کے ماری جا رہی ہیں ان کے لئے آواز بلند کرو ۔ وہ تمام مرد جو عورتوں کو بدنام کرنے والی خواتین مارچ کا سہارا لے کر عزت دار خواتین کو بھی ایک ہی لکڑی سے ہانک کر عورت کی تذلیل کرتے ہیں وہ اس فساد سے باہر آئیں اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ عورت کی عزت اور حقوق کیلئے سچ اور حق کی آواز بلند کریں اور خواتین کے ساتھ مل کر اچھی سوچ سے وابستہ عورت مارچ کا حصہ بنیں۔مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اور انکا ساتھ ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہے۔عورتوں کا عالمی دن بالکل منایا جاناچاہئے مگر انکے جائز حقوق کیلئے اور انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے مگر عورت مارچ کے نام پر فساد منانے والی تمام اسلام اور ملک دشمن سازشوں پر سے اب نقاب اٹھانا ہو گا۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ “03009194327” پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here