Thursday, September 22, 2022
Google search engine
Homeبچوں کی شرح پیدائش میں تشویشناک حد تک کمی
Array

بچوں کی شرح پیدائش میں تشویشناک حد تک کمی


بیجنگ : چین جسے دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک کا اعزاز بھی حاصل ہے، کورونا وائرس کے بعد اب وہاں ایک نئی مصیبت نے ڈیرے ڈال لیے۔

اس حوالے سے ذرائع کے مطابق تعلیم کے ہوشرُبا اخراجات اور پرورش کے مسائل کی وجہ سے چین میں پہلے ہی بچوں کی شرح پیدائش بہت کم تھی لیکن اب کورونا وبا کی وجہ سے شرح میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کی تصدیق شدہ خبر کے مطابق کورونا وائرس نے ملک میں شادیوں اور بچوں کی پیدائش کے منصوبوں پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کو لکھے گئے ایک خط میں کمیشن نے یہ بھی تحریر کیا کہ چین میں نوجوانوں کی شہری علاقوں کی طرف منتقلی، بہتر روزگار کے حصول کے لیے اعلیٰ تربیت پر وقت صرف کرنے، اپنے پیشے سے وابستگی اور بہتر کام کا ماحول بھی آبادی میں اضافے کی راہ میں رکاوٹوں کے اسباب میں شامل ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس ملک میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ریکارڈ حد تک کم ہو گی ہے۔

ماہرین کی پیش گوئیاں اس امر کی طرف نشاندہی کرتی ہیں کہ بچوں کی پیدائش میں کم از کم دس ملین کی کمی واقع ہوگی جبکہ 2021 میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کی کُل تعداد دس اعشاریہ چھ ملین تھی جو کہ 2020 کے مقابلے میں گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد کم تھی، چین میں شادی شدہ جوڑوں کو اب تین بچوں کی پیدائش کی اجازت ہے۔

گزشتہ برس عوامی جمہوریہ چین میں فی کس شرح پیدائش 1.16 فیصد رہی، جو دنیا کے تمام دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم شرح پیدائش تھی۔

ایک بچہ پالیسی
چین میں 1980ء سے 2015 ء تک ‘ون چائلڈ پالیسی‘ یا ایک بچہ پالیسی پر سخت عمل درآمد کیا جاتا رہا۔ رفتہ رفتہ بیجنگ حکومت کو یہ ادراک ہوا کہ بچوں کی پیدائش پر اس سخت کنٹرول سے چین کی آبادی کے سُکڑنے کے خطرات بہت زیادہ پیدا ہوگئے ہیں۔

جس کا مطلب ملک میں معاشی بدحالی کا پیدا ہونا ہے کیونکہ بچوں کی پیدائش کی شرح میں کمی ملک میں بوڑھے افراد کی تعداد میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیشہ نوجوانوں کو بوڑھے افراد کی مالی اعانت اور ان کی نگہداشت کرنا پڑتی ہے۔

چینی حکام کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو ایسی سہولیات فراہم کرنا پڑیں، جو انہیں ایک سے زیادہ بچہ پیدا کرنے کی ترغیب دلائیں۔ بہتر ہیلتھ انشورنس، زچگی کے بعد طویل چھٹیاں، تیسرے بچے کے لیے اضافی”بینیفٹ‘یا اضافی رقم وغیرہ متعارف کروائی گئیں۔

دوسری جانب امریکہ کی آبادی اس کے مقابلے میں مثبت طریقے سے ترقی پر ہے، یہ انکشاف چین کے ایک مرکزی بینک کے ایک ورکننگ پیپر سے ہوا ہے۔

اس دستاویز میں اقوام متحدہ کی پیشگوئیوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق امریکہ کی آبادی میں 2019 تا 2050ء تک 15 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب چین کی آبادی کے 2.2 فیصد تک سُکڑ جانے کے امکانات ہیں، چینی مرکزی بینک نے انتباہ کیا ہے کہ ملک کی تعلیم اور تکنیکی ترقی یہاں کی آبادی کے سکڑنے کا ازالہ نہیں کرسکتی۔

Comments





Source link

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments

Maria on Woo Ninja
Maria on Premium Quality
Maria on Woo Logo
Maria on Ninja Silhouette
Maria on Ship Your Idea
Maria on Woo Ninja
Maria on Woo Single #2
Maria on Happy Ninja
Maria on Happy Ninja
Ryan on Ship Your Idea
Stuart on Ship Your Idea
Stuart on Ship Your Idea
Stuart on Happy Ninja
Stuart on Flying Ninja
Coen Jacobs on Woo Album #3
Coen Jacobs on Woo Album #4
Coen Jacobs on Ninja Silhouette
Coen Jacobs on Flying Ninja
student on Ninja Silhouette
Magnus on Woo Logo
Magnus on Patient Ninja
Cobus Bester on Woo Single #2
Cobus Bester on Woo Ninja
Andrew on Premium Quality
Cobus Bester on Woo Logo
Andrew on Flying Ninja
Cobus Bester on Woo Album #2
Cobus Bester on Ship Your Idea
Andrew on Happy Ninja
Cobus Bester on Ninja Silhouette
Cobus Bester on Premium Quality
Cobus Bester on Patient Ninja
Cobus Bester on Flying Ninja
James Koster on Patient Ninja
James Koster on Woo Album #4
James Koster on Ship Your Idea