ایسا افسر برداشت نہیں جس کی ناک کے نیچے کرپشن ہو اور وہ ایکشن نہ لے، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس وصولی کو بڑا چیلنج قرار دے دیا اور کہا کہ ایسا افسر برداشت نہیں جس کی ناک کے نیچے کرپشن ہو اور وہ ایکشن نہ لے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے قابل اور محنتی افسران کی میزبانی کی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف کرپشن، فراڈ اور لالچ کی نذر ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کے عمل میں ایسا افسر برداشت نہیں جس کی ناک کے نیچے کرپشن ہو اور وہ ایکشن نہ لے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ خراب کارکردگی والے افسران کو مزید موقع نہیں دیں گے، ایجنسیوں کی رپورٹس اور ایف بی آر کے اِن پٹ کے مطابق سیاہ اور سفید کو الگ کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹریبونل ممبرز یا تو کام کریں یا گھر جائیں، محنت کریں گے تو ہندوستان کیا ہندوستان کے باپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پوری قوم کو ایف بی آر کے قابل اور محنتی افسران پر فخر ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا فرق پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غلطی دیانتداری سے ہوئی ہے تو اسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، انصاف یہ نہیں دیکھتا کہ کالا ہے یا گورا؟ سندھی ہے یا پنجابی یا پٹھان؟ صرف میرٹ دیکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جزا اور سزا کے بغیر سب کو ایک لاٹھی سے ہانکیں گے تو اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی، 2700 ارب روپے کے ٹیکس کیسز ٹریبونلز میں زیر التوا ہیں جس کےلیے قانون بنالیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹریبونلز ممبر کام کریں گے تو عزت دیں گے ورنہ وہ گھر جائیں گے، 750 ارب روپے کا سیلز ٹیکس جعلسازی سے ہڑپ کیا جاچکا ہے۔

شہبا زشریف نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم فراڈ میں ٹیکس چوروں کو خود مشینیں لگانے کا اختیار دیا گیا، سیمنٹ فیکٹریز میں صرف 2 مینوفیکچرنگ لائن پر مشینیں لگائیں اور اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا نظام چلا تو اچھی بات ہے ورنہ آخری چارہ کار کی طرف جانا پڑے گا۔

Leave a Comment