Saturday, March 2, 2024
Online Free Business listing Directory to Grow your Sales
HomeLatest Breaking newsSome Countries May See Another Wave Of COVID 19 Infection Due To...

Some Countries May See Another Wave Of COVID 19 Infection Due To XBB Subvariant, Says WHO Chief Scientist skf mgb


WHO نے کیا خبردار، اومیکرون کا XBB سب ویرینٹ لاسکتا ہے انفیکشن کی ایک اور لہر

WHO نے کیا خبردار، اومیکرون کا XBB سب ویرینٹ لاسکتا ہے انفیکشن کی ایک اور لہر

سوامی ناتھن نے کہا کہ وہ بی اے 5 اور بی اے 1 کے ڈیرویٹویس پر بھی نظر رکھ رہے ہیں، جو زیادہ مدافعتی بھی ہیں۔ جیسے جیسے وائرس تیار ہوتا ہے، اس کے پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • New Delhi, India
عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی چیف سائنسداں ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے کہا ہے کہ کچھ ملکوں مین اومیکرون کے XBB سب ویرینٹ کی وجہ سے انفیکشن کی ایک اور لہر دیکھی جاسکتی ہے، جو کوویڈ-19 وائرس کی ایک قسم ہے۔ ترقی پسند ملکوں کے ویکسین مینوفیکچررس نیٹ ورک کی سالانہ عام میٹنگ کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی بھی ملک سے ایسا کوئی دیٹا نہیں آیا ہے جس سے ثابت ہوسکے کہ نیا ویرینٹ طبی طور پر تشویشناک ہے۔

اومیکرون کے 300 سے زیادہ سب ویرینٹ

انہوں نے کہا کہا ومیکرون کے 300 سے زیادہ سب ویرینٹ ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ جو ابھی تشویش کا موضوع ایکس بی بی ہے، جو ایک ری کامبیننٹ وائرس ہے۔ ہم نے پہلے کچھ ری کامبیننٹ وائرس دیکھے تھے۔ یہ بہت مدافعتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ اینٹی باڈیز سے متاثر نہیں ہوتا ہے۔ ہم کچھ ممالک میں XBB کی وجہ سے انفیکشن کی ایک اور لہر دیکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

حکومت ہندکا ویکسینیشن پروگرام اپنےآخری مرحلےمیں داخل! اب نہیں ہوگی مزیدویکسین کی خریداری

یہ بھی پڑھیں:
ابھی نہیں ٹلا کورونا کا خطرہ! 24گھنٹے میں آئے 5300نئے کیس، ایکٹو معاملے اب بھی 4500 کے پار

سوامی ناتھن نے کہا کہ وہ بی اے 5 اور بی اے 1 کے ڈیرویٹویس پر بھی نظر رکھ رہے ہیں، جو زیادہ مدافعتی بھی ہیں۔ جیسے جیسے وائرس تیار ہوتا ہے، اس کے پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ابھی تک کسی بھی ملک سے کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ یہ نئی ذیلی قسمیں طبی لحاظ سے زیادہ شدید ہیں۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن نے ضروری اقدامات کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نگرانی اور ٹریکنگ اہم اقدامات ہیں۔ ہمیں نگرانی اور ٹریک جاری رکھنا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ تمام ممالک میں ٹیسٹنگ کم ہوئی ہے، پچھلے چند مہینوں میں جینومک نگرانی میں بھی کمی آئی ہے۔ ہمیں جینومک نگرانی کا کم از کم ایک اسٹریٹجک نمونہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مختلف قسم کا سراغ لگاتے رہیں۔

Published by:Shaik Khaleel Farhaad

First published:



Source link

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments