PTI میں گروپنگ، عمران کا اعتراف، کوئی فارورڈ بلاک نہیں، دونوں گروپوں کو جمعرات کو جیل بلا لیا، بات کروں گا، بانی پی ٹی آئی

PTI میں گروپنگ، عمران کا اعتراف، کوئی فارورڈ بلاک نہیں، دونوں گروپوں کو جمعرات کو جیل بلا لیا، بات کروں گا، بانی پی ٹی آئی

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) بانی تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک ہے نہ ہی کوئی بڑے اختلافات ہیں‘ میں نے دونوں گروپوں کو جمعرات کو بلایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان سے بات کروں گا‘پارٹی چھوڑنے والے رہنماؤں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تشدد سہنے اور فائلیں دیکھ کر بھاگنے والے پارٹی رہنماؤں کے بارے میں الگ فیصلے ہوں گے‘ عمر ایوب کی پارٹی کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ 

الیکشن میں بے ضابطگیوں پر امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے اور 85 فیصد کانگریس اراکین نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا‘ دنیا میں سب سے بڑی اور طاقتور اسرائیلی لابی ہے وہ بھی امریکی تاریخ میں آج تک ایسی قرارداد منظور نہیں کروا سکی۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے فواد چوہدری سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی میں اب گروپنگ واضح ہو چکی ہے آپ نے اس بارے کیا فیصلہ کیا ہے؟ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے دونوں گروپوں کو 4 جولائی کو بلایا ہے‘ ان سے بات کروں گا‘امریکی کانگریس نے پاکستانی انتخابات سے متعلق قرارداد میں اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ کانگریس نے پوری تحقیقات کے بعد متفقہ قرار داد منظور کی۔ کانگریس کی قرار داد میں وہی سوالات اٹھائے گئے جن کا ذکر پلڈاٹ، فافن اور پٹن نے کیا۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت پوری قوم نے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سب جانتے ہیں الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ 

صحافی نے سوال کیا کہ حکومت کہتی ہے کانگریس کی قرار داد کے لئے پی ٹی آئی نے لابنگ کی؟ اس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ امریکا میں اسرائیلی لابی سب سے زیادہ مضبوط ہے، امریکا کی تاریخ میں وہ بھی ایسی قرار داد نہیں لاسکی۔ 

صحافی نے سوال کیا کہ کیا کانگریس کی قرار داد پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے یا سائفر مداخلت تھا؟ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کانگریس کی قرارداد انتخابات سے متعلق ہے جبکہ سائفر میری حکومت کے خاتمے سے متعلق تھا۔ میں آج بھی ڈونلڈ لو کی مداخلت پر اپنے موقف پر قائم ہوں۔

Leave a Comment