HomeUncategorizedUS Japan Concerns Over China Buying Land Near Military Bases skf mgb

US Japan Concerns Over China Buying Land Near Military Bases skf mgb


فوجی ٹھکانوں کے پاس چین نے خریدی زمین، امریکہ-جاپان کی بڑھی تشویش

فوجی ٹھکانوں کے پاس چین نے خریدی زمین، امریکہ-جاپان کی بڑھی تشویش

امریکی ہاوس کمیٹی نے اوورسائٹ اینڈ ریفارم کے رینکنگ ریپبلکن رکن پارلیمنٹ ریپ جیمس کامر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے چین کی زمینوں پر بڑھتی ملکیت کو ملک کی قومی سلامتی سے کھلواڑ بتایا ہے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • New Delhi, India
چین کی ایک کمپنی نے جاپان کے ایئرڈیفنس فورس رڈار سائٹ کے پاس ہوکائیدو میں ایک زمین کا ٹکڑا خریدا ہے۔ ساتھ ہی پھوپھینک گروپ نے امریکہ میں نارتھ ڈکوٹا کے گرینڈ فوکرس کے پاس 300 ایکڑ کھیت خریدا ہے۔ اس انکشاف کے بعد 130 سے زیادہ امریکی ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے سیکورٹی اثرات پر فوری تجزیہ نہیں کیا گیا تو مستقبل میں پریشانی ہوگی۔ اس خط میں امریکی ہاوس کمیٹی نے اوورسائٹ اینڈ ریفارم کے رینکنگ ریپبلکن رکن پارلیمنٹ ریپ جیمس کامر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے چین کی زمینوں پر بڑھتی ملکیت کو ملک کی قومی سلامتی سے کھلواڑ بتایا ہے۔

اس سے پہلے جاپان میں جنوری میں سابق برسراقتدار لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے پالیسی چیف سانے تاکاچی نے بھی اپنی حکومت کو خبردار کیا تھا۔ جاپانی وانیکی ایجنسی کے مطابق، جاپان کے جنگلاتی علاقے میں ملکیت اور سرمایہ کاری میں 2010 سے 4.7 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2021 میں ہانگ کانگ، مکاو، آسٹریلیا، سنگاپور اور امریکہ سے آنے والے خریدار ہوکائیدو میں زمین خرید رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 19 کیسیز درج کیے گئے۔ پچھلے مہینے امریکی فوج میں سرگرم ڈیوٹی عہدیدار ریان ایشلے اور ایلیک رائس نے نککوئی ایشیا کے لیے لکھے ایک خط میں اس پر تشویش ظاہر کی۔

یہ بھی پڑھیں:

حافظ سعید کے بیٹے کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستان کی تجویز پر چین نے لگائی روک

یہ بھی پڑھیں:
برطانیہ : سیاسی بحران کے درمیان وزیر داخلہ سوئیلا بریورمین نے دیا استعفی

جنرل اٹامکس نے کی کارروائی کی اپیل

جنرل اٹامکس ایروناٹیکل سسٹم کے ترجمان مارک برینکلے نے کہا کہ چین کا کاروبار چینی حوکمت سے جڑا ہوا ہے۔ ہم اتنے بڑے پیمانے پر اور گرینڈ فورکس ایئرفورس بیس کے دائرے میں چینی کمپنی کو موجود ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔ اس کمپنی کی موجودگی سے فوجی جاسوسی کے مواقع کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ اس ایئربیس اور اس کے آس پاس کے اہم قومی فضائی علاقے اور حساس فوجی مہموں کو دیکھتے ہوئے امریکی انتطامیہ کو تشویش کرنی چاہیے۔

Published by:Shaik Khaleel Farhaad

First published:



Source link

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments