یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے، وفاقی وزیر قانون

یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے، وفاقی وزیر قانون

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا تا، پ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے ، مناسب ہوتا اگر لارجر بینچ ہی کوئی عبوری حکم نامہ بھی جاری کرتا.

پیر کو عدالت عظمیٰ کے عبوری حکم نامے پر اپنے بیان میں وزیر قانون نے کہا ہے کہ یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے ،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے تحت 5 رکنی لارجر بنچ کا معاملے کی سماعت کرنا موزوں ہوتا، مناسب ہوتا اگر لارجر بینچ ہی کوئی عبوری حکم نامہ بھی جاری کرتا، یہ آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کی تشریح کا معاملہ ہے، پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں امتناع کے حکم سے احتراز برتا جانا چاہیے تھا منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے.

آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نااہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے،امید ہے حتمی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

Leave a Comment