ہم اپنی غلطیوں سے کب سیکھیں گے؟

پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتِ حال ابتری کی اس سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جس سے آگے نا قابلِ تصّور قومی سانحے نوشتہ ء دیوار دکھائی دے رہے ہیں۔ گویا ہم ایک ایسے آتش فشاں پر بیٹھے ہوئے ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ اگرچہ ہم ہمیشہ سے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے ہیں جس نے نہ صرف ہمیں کبھی ایک قوم نہیں بننے دیا اور معاشی طورپر ہمیشہ پس ماندہ رکھّا ہے۔ بلکہ یہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی ہماری قومی وحدت کیلئے زہر قاتل ثابت ہوئی اور ہمارا ملک صرف 23سال بعد ہی دولخت ہوگیا۔ یہ اس دور میں ہو اجب ہم مکمل طور پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کے رحم و کرم پر تھے اور ہمیں ان کے مفادات کی جنگ میں آلہء کار بننے کیوجہ سے انکی طرف سے ملنے والی بھاری مالی اور فوجی امداد پاکستان کے عوام کی بجائے اشرافیہ کے ذاتی تصرّف میں استعمال ہو رہی تھی اس لیے اس سے پاکستانی عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ محرومیوں کا شکار ہو تے چلے گئے۔ جنرل ایوب خان سے شروع ہونے والی یہ المناک کہانی جنرل پرویز مشرف کے دور تک چلی جب امریکی سامراج اور اسکے حواریوں نے اپنے مقاصد پور ے ہونے کے بعد اچانک پاکستان سے منہ موڑ لیا اور پاکستان کو دی جانے والی امداد سے ہاتھ روک لیا یوں پاکستان یک و تنہا ہوگیا۔ جس زمانے میں پاکستان کو بھاری امداد مل رہی تھی اس زمانے میں امریکی سامراج نے پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹروں کو پروان چڑھایا اور سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنمائوں کی بیخ کنی کرنے کیلئے فوجی ڈکٹیٹروں کی مکمل سپورٹ کی۔ کیونکہ فوجی ڈکٹیٹر جس وفاداری کے ساتھ سامراجی طاقتوں کی اطاعت کر سکتے ہیں، سیاسی رہنما ایسا نہیں کر سکتےکہ سیاسی لوگوں نے ہمیشہ عوام کا سامنا کرنا ہوتا ہے جبکہ فوجی ڈکٹیٹروں کی صرف ایک ہی اننگز ہوتی ہے لہٰذا وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے۔ دوسرے وہ امداد جو پاکستان کو کئی سال تک ملتی رہی ۔ اگر سیاسی بصیرت رکھنے والے سیاسی لوگوں کے دورمیں ملتی تو اس سے مستقبل میں زراعت ، صنعت اور معیشت کے دیگر شعبوں میں ترقی کی بہتر بنیادیں رکھی جا سکتی تھیں۔ ڈکٹیٹروں کے زمانے میں ملنے والی اس امداد نے نہ صرف پاکستان کو سامراجی مقاصد کی تکمیل کیلئے لڑی جانے والی جنگوں کا حصہ بنایا اور غیر ملکی سازشوں کا شکار کیا بلکہ اس خود اعتمادی سے بھی محروم کر دیا جو کسی خود دار قوم کا حِصہ ہوتی ہے جسکے ذریعے وہ اپنے قوّتِ بازو پر انحصار کرکے آگے بڑھتی ہے۔ صرف یہی نہیں اس نے سب سے خوفناک کام یہ کیا کہ ہماری قومی ترجیحات کو بدل کر رکھ دیا۔ ہمیں حقیقت پسندانہ روّیے اپنا نے کی بجائے فکری اور نظری ابہام میں مبتلا کر دیا جس نے ہمارے قومی مستقبل کے تانے بانے بکھیر کر رکھ دئیے ۔ مثلاََ اس امداد نے ہمیں سب سے بڑا نقصان یہ پہنچایا کہ اس زعم نے ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک خاص طور پر بھارت کے خلاف غیر ضروری جارحانہ رویّے اپنانے پر راغب کیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارا یہ ہمسایہ ملک جو آبادی اور وسائل کے لحاظ سے ہم سے سات گنا بڑا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ سیاسی سوجھ بوجھ سے اپنے اختلافات طے کرنے کی بجائے ’کرش انڈیا‘ جیسے نعرے لگا کر لوگوں کے جذبات کو ابھارا ۔ ہم اپنی طالب علمی کے زمانے میں ’’ لال قلعے پر پاکستانی پرچم لہرائیں گے ‘‘ جیسے نعرے اکثر سنتے رہتے تھے۔ ہمیں باور کرایا جاتا تھا کہ ہم اپنے اسلامی جذبے کے زور پر جب چاہیں ہندوستان کو کچل سکتے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ نہ صرف بھارت کی مغربی پاکستان کے ساتھ تقریباََ 2ہزار میل لمبی سرحد ہے بلکہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ بھی ہے اور درمیان میں بھارت کا علاقہ پڑتا ہے۔ جو کسی وقت بھی دونوں حصّوں کے درمیان واحد رابطہ یعنی فضائی راستہ کاٹ سکتا ہے۔ اور پھر یہی ہوا، 71ء کی جنگ میں بھارت نے مغربی اور مشرقی پاکستان کا رابطہ منقطع کر کے عملاََ مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے کاٹ دیا اور بنگال میں پاکستانی فوج کو محصور کردیا۔ اس سے پہلے 1965ء میں کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے ذریعے ہم نے ہندوستان کو مغربی پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی اور یوں سترہ دنوں کی اس جنگ میں ہم نے ایوب خان کے دور میں ہونے والی معاشی ترقی پر پانی پھیر دیا۔ اس جنگ کے دوران ہمارا مشرقی محاذ بالکل بے دست و پاء نکلا جس سے بنگالیوں میں مزید عدم استحکام پیدا ہوا اور ہم کشمیر لیتے لیتے اپنا مشرقی حصّہ بھی کھو بیٹھے ۔ ہم نے پھر بھی اپنی طاقت اور حیثیت کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے مذہبی اور جنگی جنون کا راستہ نہیں چھوڑا اور بھارت کے ساتھ گفت و شنید کی بجائے محاذ آرائی کی پالیسی جاری رکھی ۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کشمیر میں جاری جدوجہد ِ آزادی اب پاکستان کے ساتھ الحاق کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب وہ کھل کر آزاد اور خود مختار کشمیرکی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا اظہار حالیہ دنوں میںآزاد کشمیر میں ہونے والے مظاہروں سے بھی ہو چکا ہے لیکن ہم اپنی ہی دھن میں کشمیر کے حصول کے لیے کبھی سیاچین اور کبھی کارگل میں مہم جوئی کے ذریعے خود کو مزید کمزور کرتےرہے۔ آج یہ عالم ہے کہ ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے اور ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم ٹھنڈے دل سے اپنا محاسبہ کریں اور پاکستان کو بچانے کے لیے اپنے ہمسائیوں خصوصاََ بھارت کے ساتھ تعلّقات کو بہتر بنائیں۔

Leave a Comment