کیا ایسا مانا جائے کہ PTI کو انتخابات سے باہر کیا گیا؟ جسٹس اطہر

سپریم کورٹ یوٹیوب لائیو گریب
سپریم کورٹ یوٹیوب لائیو گریب

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فُل کورٹ سماعت کررہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل کے آج بھی دلائل

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے روسٹرم پر آکر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حامد رضا نے کاغذاتِ نامزدگی میں کہا کہ میرا تعلق سنی اتحاد اور تحریکِ انصاف سے ہے، حامدرضا نے دستاویزات میں کہا ہے کہ تحریکِ انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں، تحریکِ انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں، حامد رضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیا گیا، حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والی دستاویزات میں حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں بطور آزاد امیدوار انتخابات میں اترنا چاہ رہا ہوں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ حامد رضا خود کو آزاد امیدوار نہ کہیں؟ تحریکِ انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامد رضا نے جمع نہیں کروایا، حامد رضا نے تحریکِ انصاف کا منسلک ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے، حامد رضا نے حلف لے کر کہا کہ میں تو تحریکِ انصاف نظریاتی میں ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامد رضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عمل درآمد کیا۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہو گی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کے بعد کسی امیدوار کو اختیار ہے کہ پارٹی تبدیل کر لے؟ کیا کوئی امیدوار کہہ سکتا ہے کہ فلاں پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لینا چاہتا ہوں؟

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ہمارے سامنے کاغذاتِ نامزدگی کا کیس ہے، ریٹرننگ افسران کے پاس کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفکیٹ ہوتا ہے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے، پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا؟

’’سرٹیفکیٹ پی ٹی آئی نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا ہے؟‘‘

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ ایک شخص اگر شادی کرنا چاہے لیکن لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے ناں، جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفکیٹ لگانا ضروری ہے ناں؟ سرٹیفکیٹ پی ٹی آئی نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا ہے؟ مختلف شہروں کے ریٹرننگ افسران ہوتے ہیں، ہر ریٹرننگ افسر اپنے طریقے سے کام کرے گا ناں؟ نشان چھوڑیں، ہمیں امیدوار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ امیدوار کی ڈیکلریشن اور پارٹی کے ساتھ وابستگی ظاہر ہونا ضروری ہے، اگر ڈیکلریشن اور سیاسی وابستگی میچ نہ ہو تو آزاد امیدوار ہوتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہر کر سکتے ہیں؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ آر اوز کے لیے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا جائے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے کہ میں ایک پارٹی کا ہوں، سرٹیفکیٹ بھی دے لیکن الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار ظاہر کر دیا ہو؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے۔

جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریکِ انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نشان سے کنفیوز نہ کریں، ہم تحریکِ انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں، سرٹیفکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کر رہا ہے، جس پارٹی کا سرٹیفکیٹ لایا جا رہا ہے اسی پارٹی کے امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جا رہا؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جو سمجھ آ رہا ہے کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ کے بعد سیاسی وابستگی تبدیل کرے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر سے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آ رہا لیکن آگے بڑھتے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ آپ نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہو گئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کر سکتا ہے؟ پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا؟ آزاد امیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا۔

’’سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا، لیکن نہیں کہا کہ PTI کو انتخابات سے باہر کر دیں‘‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریکِ انصاف کی بات ہو رہی ہے جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملے گا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا، لیکن سپریم کورٹ نے ایسا نہیں کہا کہ تحریکِ انصاف کو انتخابات سے باہر کر دیں، سپریم کورٹ کا تحریکِ انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہرگز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یا تو بلے کا نشان کسی اور کو دے دیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے محفوظ رکھا ہوا ہے، آزاد امیدوار کو بھی بلے کا نشان مل سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے تشریح کوئی غلط کرے تو ہمارے پاس علاج نہیں، ایک امیدوار کو تحریکِ انصاف کا امیدوار کیوں نہیں سمجھتے؟ بات سمجھ نہیں آ رہی۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ 22 دسمبر 2023ء کو صدرِ مملکت کون تھے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ دسمبر 2023ء میں صدرِ مملکت عارف علوی تھے۔

جسٹس منیب اختر نے پھر سوال کیا کہ کیا نگراں حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟ کیا کسی نگراں حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگراں حکومت اتنی ہی انڈیپینڈنٹ ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو عارف علوی انتخابات نہ کراتے، صدر عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انتخابات میں عوام کی منشا دیکھی جاتی ہے، اگر کوئی انتخابات پر سوال اٹھے تو الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ جاتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی نشان بعد کی بات ہے، امیدوار انتخابات میں حصہ لیتا ہے، پارٹی نہیں، امیدوار صرف پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتا ہے، امیدوار کا حق ہے کہ اسے انتخابات کے لیے نشان ملے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملک میں انتخابات کرائے، مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے 5 رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ایسا نہ کہیں کہ 5 رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہو گیا، آپ نے بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ نشان نہیں ملا تو آزاد امیدوار ڈیکلیئر کر دیں، اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا؟ کیا الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر بات کی یا ریٹرننگ افسران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا؟

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ امیدوار کو آزاد ڈیکلیئر کر دیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ امیدوار تو کہہ رہا ہے کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں، امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزاد امیدوار ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھی تو عدالت کو دکھانے کا تو کوئی جواز نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ سادہ بات ہے کہ پارٹی اور امیدوار کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے، کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کسی کو آزاد امیدوار قرار دے سکتا ہے؟

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں ایک ہی سوال تیسری بار پوچھ چکی ہوں۔

کیا ایسا مانا جائے کہ PTI کو انتخابات سے باہر کیا گیا؟ جسٹس اطہر

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کیا ایسا مانا جائے کہ تحریکِ انصاف کو انتخابات سے باہر کیا گیا؟ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی؟ بینچ تو کہہ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ چھوڑ دیں 80 سے زائد امیدواروں کو 6 امیدواروں نے سرٹیفکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا، 6 کو بھی الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار قرار دے دیا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جا رہا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ چند امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لیے اور خود کو آزاد امیدوار ظاہر کیا، آزاد امیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے، دیکھنا ہو گا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزاد امیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ امیدوار نے خود کو آزاد امیدوار ظاہر نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، امیدوار پھر جماعت سے منسلک ہونا چاہ رہے ہیں تو الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد امیدوار کہا، اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا ہے تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتا ہوں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ تحریکِ انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی عدالت کو دی گئی دستاویزات میں تنازع ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فارم 33 الیکشن کمیشن بناتا ہے جس میں امیدوار اپنا سرٹیفکیٹ دیتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک کا تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا ہے؟

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بتایا گیا کہ جے یو آئی ایف کا بھی مخصوص نشستوں کے لیے سنی اتحاد سے ملتا جلتا منشور ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے جے یو آئی کی دستاویزات دکھائیں، میں دستاویزات کے بغیر بات نہیں کروں گا۔

سنی اتحاد کا مخصوص نشستوں پر منشور پڑھا گیا

ڈی جی لاء نے روسٹرم پر سنی اتحاد کا مخصوص نشستوں سے متعلق منشور پڑھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا منشور پڑھ کر مخصوص نشستیں دیتا ہے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا منشور عدالت کے سامنے لایا جائے۔

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا منشور دیکھوں یا ایک پارٹی کا منشور دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے منشور کو نظر انداز کیوں کروں؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ آپ کسی اور پارٹی کا منشور نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ ہے کہ سب آئین کو بھول جاتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس جمال مندوخیل کے سوال پر ریمارکس دیے کہ مدھم آوازوں کو بھی توجہ دیں۔

آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں:ٟ وکیل الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہا ہوں، مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جیتنی پڑے گی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی، آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں۔

’’فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں‘‘

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر سے کہا کہ فل کورٹ کے سامنے دلائل دینے والے وکلاء کے ساتھ میری ہمدردیاں ہیں، فل کورٹ میں مختلف خیالات سامنے آتے ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہا کہ دیگر فریقین کے وکلاء کو بھی ایسے ہی ٹریٹ کیا گیا جیسے آپ کو کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا تحریکِ انصاف اور سنی اتحاد نےکوئی لسٹ دی؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ تحریکِ انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی، سنی اتحاد نے نہیں دی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ تحریکِ انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی۔

جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کو انتخابات سے الگ کر دیا تھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو اس کے کیا اثرات پڑیں گے؟ الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر سے سوال کیا کہ کتنا وقت لگے گا؟ ایک دو منٹ؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگے گا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو کوشش کر رہے ہیں کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے 11 بجے؟ تحریکِ انصاف کی لسٹ آج مہیا کر دیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے میں تحریکِ انصاف کی لسٹ دے دوں گا۔

سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ دینے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفکیٹ اور ڈیکلریشن بھی مہیا کر دیں۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، صرف عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ درخواست دائر کر دی ہے۔

سماعت پیر یکم جولائی تک ملتوی

عدالتِ عظمیٰ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت پیر یکم جولائی کو ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

Leave a Comment