کراچی کے شہری لاک ڈاؤن پر سنجیدہ نظر نہیں آرہے، ڈی آئی جی آپریشنز | پاکستان

0
26


 لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی جارہی ہے، مقصود میمن،فوٹو:فائل

سندھ پولیس کے ڈپٹی انسکپٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز  مقصود میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن کے پہلے دن شہری سنجیدہ نظر نہیں آرہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز مقصود میمن کا کہنا ہے کہ عوام سٹرکوں پر نظرآرہے ہیں ہم نے آگاہی مہم بھی جاری رکھی ہےجب کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی جارہی ہے۔

مقصود میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں شہری ماسک کے بغیر بھی باہرگھومتے دکھائی دیےہیں، انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سبزی، ڈیری، مرغی کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کو بند نہیں کروارہے جب کہ کسی بھی علاقے میں واٹر ٹینکر سروس کو معطل نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی واٹر ہائیڈرنٹ بند کروایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سندھ حکومت نے 22 مارچ رات 12 بجے سے آئندہ 15 روز کے لیے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کردیا ہے۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

وزیرٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبے میں شہروں کے اندرچلنے والے پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی ہے، بسیں اور آن لائن سروس پر بھی نہیں چل سکیں گی۔

وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ کوئی شہری بیمار ہے یا ضروری کام ہے تو وہ ٹیکسی یا رکشہ استعمال کرے۔

 کھانے کی ہوم ڈیلیوری اور پارسل پر بھی پابندی عائد 

دوسری جانب کمشنر کراچی نے کھانے کی ہوم ڈیلیوری اور پارسل پر بھی پابندی عائد کردی ہےجب کہ کسی گاڑی میں 10 لیٹر سے زائد پیٹرول ڈلوانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

کمشنر کراچی کا کہنا ہےکہ کریانہ اسٹورز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی، دکاندار سندھ حکومت کی مقررہ پرائس لسٹ کے مطابق اشیاء خور و نوش فروخت کریں۔

کمشنر کراچی کے مطابق کھانے کی ہوم ڈیلیوری اورپارسل پربھی پابندی عائد کردی گئی جب کہ تمام ریسٹورنٹس کےکچن بھی بند رہیں گے، گھر کے صرف ایک فرد کو سودا سلف خریدنے کی اجازت ہوگی۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 803 ہوگئی

واضح رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 803 ہوگئی ہے جن میں سے سندھ میں سب سے زیادہ کیسز آئے ہیں جن کی تعداد 352 ہے۔

سندھ کے 352 مریضوں میں سے  129 مریضوں کا تعلق کراچی سے ہے جب کہ شہر میں ایک مریض کورونا کے باعث جاں بحق بھی ہوچکا ہے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here