کراچی میں راشن کی تقسیم کے دوران جھگڑا، پولیس کی فائرنگ سے لڑکی جاں بحق

0
16


کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں راشن کی تقسیم کے دوران جھگڑے پر پولیس کی ہوائی فائرنگ سے چھت پر کھڑی لڑکی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی۔

پی آئی بی کالونی گور آباد روڈ پر منگل و بدھ کی درمیانی شب علاقے کی دو فلاحی تنظیموں کی جانب سے مستحق افراد کو راشن کی فراہمی کی جا رہی تھی کہ دوران راشن فراہمی فلاحی تنظیموں میں تصادم ہوا۔

اطلاع ملتے ہی علاقہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے پر وہاں موجود لوگوں کو چلے جانے کو کہا، فلاحی تنظیموں کے ذمہ داران اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی اور پولیس کی جانب سے عوام کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کر دی گئی، فائرنگ کی زد میں آکر قریبی عمارت کی چھت پر کھڑی 26 سالہ صبا زوجہ نعمان کو سر میں گولی لگی جس کو قریبی اسپتال منتقل کیاگیا تاہم صبا جانبر نہ ہو سکی۔

فوٹو: جیو نیوز

واقعہ کے بعد علاقہ مکین مشتعل ہو گئے اور پولیس کےخلاف احتجاج شروع کر دیا اس دوران مشتعل عوام نے پولیس موبائل کے شیشے بھی توڑ دیئے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق فائرنگ کرنے والا اہلکار ہیڈکانسٹیبل عظیم ہے اور اس سے قبل بھی اہل علاقہ کو اس اہلکار کی جانب سے ہراساں کیا جاتا رہا ہے اور متعدد بار افسران کو شکایات پر بھی اس اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ واقعہ کے وقت عظیم سمیت چار اہلکار گشت پر معمور تھے،پولیس کی جانب سے فائرنگ تصادم ختم کرانے کےلیے کی گئی تاہم فائرنگ کی زدمیں آکر ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہیڈ کانسٹبل عظیم سمیت چاروں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ہیڈ کانسٹیبل عظیم کی سرکاری پستول بھی تحویل میں لے لی گئی ہے جب کہ واقعہ کے حوالے سے دیگر اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب کراچی ہی کے علاقے رنچھوڑ لائن یوسی 20 میں بھی راشن کی تقسیم کے دوران بدنظمی کا واقعہ پیش آیا۔

علاقہ مکینوں نے یوسی آفس سے راشن نہ ملنے پر احتجاج کیا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر آگئی ہے۔

پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ راشن یوسی چئیرمین اورکونسل کی جانب سے تقسیم کیا جا رہا تھا، بدنظمی پر راشن کی تقسیم کاعمل روک دیا گیا اور احتجاج کرنے والوں کو پولیس نے منتشر کر دیا گیا۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here