پولیو ٹیم پر حملہ، حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار شہید، 2 زخمی ہوگئے | پاکستان

0
36


افغانستان اور نائیجیریا کے علاوہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا مرض موجود ہے— فوٹو: صباح

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں پولیو ٹیم کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔

حکام نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سڑک کنارے نصب دھماکا خیز مواد کے ذریعے پولیو ٹیم کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی حفاظت پر مامور پولیس کی گاڑی میں موجود ایک پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔

دہشتگردی کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں لاکھوں بچوں کو حفاظتی قطرے پلا کر بیماری کا خاتمہ کرنا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان اور نائیجیریا کے علاوہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا مرض موجود ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سابق رہنما ’اسامہ بن لادن‘ کا سراغ لگانے کے لیے پولیو کی جعلی ویکسینیشن مہم چلائی کی گئی تھی جس کی وجہ سے اس مہم پر کئی سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور اس کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس چیف کیپٹن واحد محمود نے واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقے میں پولیس کی گاڑی پولیو ٹیم کی نگرانی کررہی تھی کہ اسی دوران دھماکا ہوگیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکا (آئی ای ڈی) دیسی ساختہ بم کے ذریعے کیا گیا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہوئے۔

بعد ازاں مقامی پولیس افسر صداقت خان نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔

واقعے کی ذمہ داری فی الحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کہ البتہ ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیو ٹیموں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پورے ملک میں جاری اس انسدادِ پولیو مہم کے ذریعے 3 کروڑ 90 لاکھ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جایئں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی پولیو کے خلاف جاری طویل جنگ کے باوجود بھی رواں سال اب تک 17 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

جبکہ2018 میں ان کیسز کی تعداد صرف 12 تھی علاوہ ازیں 2019 میں پولیو کے کیسز میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس میں پولیو کے144 کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔

جہاں پاکستان ملک میں سے پولیو کا خاتمہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں ویکسینیشن کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی تحریکیں ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آرہی ہیں۔

جس سے عوام کو یہ پیغام جارہا ہے کہ طبی بنیادوں پر یہ بیکار ہے اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف مہم سے شبہ ہے کہ یہ خطرناک بیماری کہیں دوبارہ زور نہ پکڑ لے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here