پاکستان کی ایران کو ہیلی کاپٹر حادثہ تحقیقات میں معاونت کی پیشکش

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

پاکستان نے پڑوسی ملک ایران کو صدر ابراہمی رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کر دی۔

ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایرانی حکام کے پاس پوری اہلیت ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر کریش کی تحقیقات کریں، اگر ایران کو ضرورت پڑے تو پاکستان تحقیقات میں معاونت کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رواں ہفتہ پاکستانی سفارت کاری کا متحرک ہفتہ تھا، وزیر اعظم شہباز شریف نے یو اے ای کے سربراہ کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، یو اے ای کے سربراہ نے مختلف شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی۔

ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کے مطابق وزیر ِاعظم شہباز شریف نے رواں ہفتے ایران کا دورہ کر کے ایرانی صدر کی وفات پر تعزیت کی، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان کا دورہ کر کے پاکستانی قیادت سے ملاقات کی۔

انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل سارک غلام سرور نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان کا دورہ کیا اور سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی سے ملاقات کی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان متعدد وفود کا تبادلہ ہوتا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان 13 ویں جے سی سی پر بریفنگ دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے یو اے ای حکام کی ماضی میں پاکستان کی معاونت کا شکریہ ادا کیا، یو اے ای نے متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کی جس کی تفصیلات آئندہ ہفتوں میں جاری ہوں گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ آذر بائیجان کے وزیرِ خارجہ 29 سے 30 مئی کے دوران پاکستان کا دورہ کریں گے، آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر جلد سرمایہ کاری کرے گا، یہ سرمایہ کاری اس حوالے سے بات چیت کے بعد ہو گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا ہے کہ بشکیک سے 4 ہزار 500 سے زائد طلباء واپس آ چکے ہیں، طلباء کی درخواست پر انہیں وطن واپس لایا گیا ہے، طلباء کا وطن واپسی کا فیصلہ اپنا تھا اور جانے کا بھی اپنا ہی فیصلہ ہو گا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرغیزستان میں صورتِ حال معمول پر آ چکی ہے، فیک نیوز ٹریفک نے بھی پاکستانی طلباء اور ان کے خاندانوں کو پریشان کیا، چاہتے ہیں کہ ہمارے طلباء آن لائن یا دیگر طریقوں سے اپنی تعلیم جاری رکھیں۔

Leave a Comment