پاکستان میں کرپشن بڑھی یا کم ہوئی؟ ٹرانسپیرنسی کی وضاحت نے معاملہ الجھا دیا | پاکستان

0
41


فائل فوٹو

اسلام آبا: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ سے متعلق وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ غلط اعداد و شمار دکھا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان کا اسکور ایک درجہ نیچے جانا کرپشن میں اضافے یا کمی کی نشاندہی نہیں کرتا۔ اس وضاحت سے مزید الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں۔ 

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر غلطیوں کا یہی معیار گزشتہ برسوں میں بھی رکھا گیا تھا تو اس وقت اس طرح کی وضاحت کیوں نہیں دی گئی تھی۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ 2018 میں پاکستان کا اسکور 33 تھا جو اب 32 ہوچکا ہے جب کہ عالمی فہرست میں پاکستان 117 سے 120 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت کرپشن میں کمی لانے میں ناکام ہوئی۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ رپورٹ کی تیاری کے لیے اعدادوشمار 8 ایجنسیوں سے لیے گئے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا اس رپورٹ کی تیاری میں کوئی کردار نہیں تھا تو پھر وہ کس طرح اس کی وضاحت دے سکتا ہے؟ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں اور میڈیا نے رپورٹ کو غلط پیش کیا۔

رپورٹ میں مشرف دور کو کرپٹ ترین یا موجودہ حکومت کو دوسرے نمبر پر نہیں رکھا گیا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو کلین چٹ بھی نہیں دی گئی، انڈیکس میں شامل ڈیٹا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں 13 مختلف ذرائع کے اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ میڈیا کے کچھ حصے برٹلس مین اسٹف ٹنگ ٹرانسفارمیشن انڈیکس 2020 کی درجہ بندی کے بجائے 2018 انڈیکس کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے غلط رپورٹنگ کررہے ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ برٹلس مین اسٹف ٹنگ ٹرانسفارمیشن انڈیکس 2020 کا ڈیٹا اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاس خصوصی طور پر رپورٹ کی تیاری کے لیے موجود تھا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘ حقیقت یہ ہے کہ سی پی آئی 2019 نے پاکستان یا کسی اور ملک کے لیے ایسی درجہ بندی جاری نہیں کی۔

اس میں مزید وضاحت دی گئی کہ کرپشن پرسیپشنز انڈیکس جرمنی ونگ کی جانب سے تیار کی جاتی ہے اور اس کی تیاری میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

جب کہ چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان سہیل مظفر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے موجودہ حکومت کی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو سراہا ہے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here