’پاکستان میں اب تک کسی شہری میں کورونا کی تشخیص نہیں ہوئی‘ | پاکستان

0
35


اسلام آباد: وفاقی سیکریٹری صحت کے مطابق ملک بھر سے 8 مشتبہ کیسز این آئی ایچ کو موصول ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں کسی ایک بھی شہری میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش کی زیرصدارت نوول کورونا ایمرجنسی کورگروپ کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں کورونا وائرس روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سیکریٹری صحت نے کہا کہ تمام ائیر پورٹس پر عملہ مسافروں کی اسکریننگ مستعدی سےکررہا ہے، بندرگاہوں اورا نٹری پوائنٹس پر اسکریننگ کے لیے تمام ضروری آلات اور انتظامات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے صوبوں کےساتھ مل کر مؤثر اقدامات کررہی ہے، وائرس سے نمٹنے کے لیے ہرممکن وسائل بروئے کار لائیں گے۔

دوسری جانب جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے اب تک 8 مشتبہ کیسز قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ )کو موصول ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں کسی ایک بھی شہری میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر اللہ بخش نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والی تمام پروازوں کے مسافروں کوتھرمل اسکینر سےگزارا جارہاہے، ائیر پورٹ، اسپتالوں میں عملےکوکوروناکے مشتبہ اور تصدیق شدہ کیس سےنمٹنےکی ٹریننگ دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

اس کی علامات کیا ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

ماہرین صحت کی ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔

ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here