Sunday, February 5, 2023
Online Free Business listing Directory to Grow your Sales
HomeLatest Breaking newsپاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات دو طرفہ معاملہ ہے: امریکہ

پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات دو طرفہ معاملہ ہے: امریکہ


پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات دو طرفہ معاملہ ہے: امریکہ 1683146 1668294307

نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام چاہتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات دو طرفہ معاملہ ہے، ہم جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام چاہتے ہیں۔‘
پریس بریفنگ کے دوران جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انڈیا سے امن مذاکرات پر زور دیتے ہوئے آمادگی ظاہر کی کہ وہ کشمیر سمیت تمام  مسائل پر بات کرنے کو تیار ہیں لیکن انڈیا نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تو وہ اس حوالے سے کیا تبصرہ کریں گے؟
نیڈ پرائس نے جواب دیا کہ ’ہم نے طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم اسے ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب انڈیا اور پاکستان کے ساتھ ہماری شراکت داری کی بات آتی ہے تو یہ وہ تعلقات ہیں جو اپنے طور پر قائم ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کا مطالبہ کیا ہے تاہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان بات چیت، دائرہ کار، کردار ان دونوں ممالک کا معاملہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران اُن سے پوچھا گیا کہ ’سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے امریکہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تو اگر وہ حکومت میں آئے تو کیا امریکہ ان کی پارٹی اور ان کے لیے دروازے کھولے گا؟
اس کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یقیناً پاکستان ہمارا شراکت دار ہے اور ہم پاکستان میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ کام کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی مشترکہ مفادات ہیں۔ ہم نے مختلف حکومتوں کے دوران اس کے ساتھ مضبوط تعلقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ ہم حکومت کو اس کی پالیسیوں کے مطابق دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آنے والی پاکستانی حکومت کس پالیسی کے تحت آگے بڑھتی ہے۔

’طالبان کو ان کے کیے کی قیمت چُکانا پڑے گی‘

افغانستان میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود وہاں کی حکومت کو اقوام متحدہ کی جانب سے امداد کی فراہمی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ ’پہلے میں واضح کر دوں کہ طالبان کو کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی ہے بلکہ اصل میں افغانستان کے عوام کو دی گئی ہے۔‘
’ہم نے ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی امداد افغانستان کے عوام کو فراہم کی ہے تاہم وہ طالبان کی حکومت یا اس کے کسی ادارے کے ذریعے سے نہیں دی گئی۔‘
افغانستان میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی اور امریکی ردعمل سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ ’ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
’میں اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ زیادہ تفصیلات بتا سکوں تاہم اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اتحادوں اور شراکت داروں کے ساتھ مناسب اقدامات کے لیے مشاورت جاری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ طالبان کو ان کے کیے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس حوالے سے تمام معاملات پر بات ہو رہی ہے۔‘





Source link

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments