پاکستان اور انڈیا میں ٹریک ٹو سطح پر معاملات چل رہے ہیں، بھارتی صحافی

پاکستان اور انڈیا میں ٹریک ٹو سطح پر معاملات چل رہے ہیں، بھارتی صحافی

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے معروف بھارتی صحافی و دانشور نروپما سبرامنین نے کہا ہے کہ مودی حکومت کے پاکستان سے تعلقات کی چابی نواز شریف کے ہاتھ میں ہے، 2015ء میں نریندر مودی نے افغانستان سے واپسی پر پاکستان میں شیڈول کے بغیر دورہ کیا تھا، پاکستان اور انڈیا میں ٹریک ٹو سطح پر معاملات چل رہے ہیں، ڈائریکٹر نیوز جیو نیوز رانا جواد نے کہا کہ مودی کو بڑی فتح نہیں ملی لیکن تیسری بار وزیراعظم بن جائیں گے ، مودی کی پاکستان سے متعلق پالیسی کی کنجی نواز شریف کے پاس ہے، نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان ایک کیمسٹری پائی جاتی ہے، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بنتے تو نریندر مودی انہیں گرمجوش مبارکباد دیتے، کانگریس کی بحالی میں راہول گاندھی کے ساتھ پریانکا گاندھی کا بڑا کردار رہا ہے۔ معروف بھارتی صحافی و دانشور نروپما سبرامنین نے کہا کہ بی جے پی نے اس بار 400نشستیں حاصل کرنے کا ناممکن ہدف رکھا تھا، انتخابی مہم میں نریندر مودی کی مسلمانوں کیخلاف تقاریر سے اندازہ ہوا کہ بی جے پی کو فتح آسان نظر نہیں آرہی ہے، بی جے پی حکومت کی سیاسی مخالفین کیخلاف کارروائیوں سے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا تھا، اترپردیش میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اتحاد سوشل الائنس تھا۔ نروپما سبرامنین کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کو حکومت بنانے کیلئے کبھی کسی دوسری پارٹی کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑی،مگر اس دفعہ نریندر مودی کو حکومت بنانے کیلئے اتحادیوں کی اشد ضرورت ہے، بی جے پی کی حکومت آج تک نریندر مودی اور امت شاہ چلاتے تھے، بڑے اتحادیوں نتیش کمار اور چندر بابو نائیڈو کی نریندر مودی کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی نہیں ہے، چندر بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی شہرت یہی ہے کہ وہ اتحاد بدلتے رہتے ہیں، یہ صورتحال نریندر مودی اور امت شاہ کیلئے بڑا چیلنج ہوگی۔ نروپما سبرامنین نے کہا کہ اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ مودی حکومت کے پاکستان سے تعلقات کی چابی نواز شریف کے ہاتھ میں ہے، 2015ء میں نریندر مودی نے افغانستان سے واپسی پر پاکستان میں شیڈول کے بغیر دورہ کیا تھا، پاکستان اور انڈیا میں ٹریک ٹو سطح پر معاملات چل رہے ہیں۔ ڈائریکٹر نیوز جیو نیوز رانا جواد نے کہا کہ مودی کو بڑی فتح نہیں ملی لیکن تیسری بار وزیراعظم بن جائیں گے، مودی سمجھتے تھے نارتھ انڈیا ان کی پاکٹ میں ہے اب انہیں ساؤتھ انڈیا کی طرف جانا چاہئے، نریندر مودی کو خود کو سب کچھ سمجھنے کا فلسفہ سے بھی نقصان پہنچا ہے، مودی کے دور میں نارتھ انڈیا معاشی طور پر ترقی نہیں کرسکا، اترپردیش میں بی جے پی کی اندرونی چپقلش شکست کی بڑی وجہ مانی جارہی ہے۔

Leave a Comment