ٹیکساس کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کو مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وکیل

ٹیکساس کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کو مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وکیل

امریکا کی ریاست ٹیکساس کی فورٹ ورتھ‎ جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کیلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو اب بھی فورٹ ورتھ کی جیل میں مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ڈاکٹر عافیہ کو ابھی بھی دو ہفتوں قبل ایک گارڈ نے سزا کے بطور ریپ کیا۔

اس بات کا انکشاف انہوں نے یہاں ڈاکٹر عافیہ سے یہاں ملاقات کے بعد ٹیلی فون پر جیو نیوز اور جنگ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ جنسی زیادت کا سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے جیل میں اب بھی انکو ریپ اور مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے جمعرات اور جمعہ کے روز عافیہ سے ملاقات کی اس دوران درمیان میں شیشے کی دیوار حائل ہوتی ہے اور فون پر ساری گفتگو ہوتی ہے، انہوں نے بتایا کہ ان سے انکی تمام ملاقاتوں میں فون درست طریقہ کام نہیں کررہا تھا اور ہم فون پر ایک دوسرے چیخ چیخ کر باتیں کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکی انہوں نے جیل حکام سے شکایت کی اور دو دنوں کے بعد دوسرا فون دیا گیا اس طرح جب اتوار کو ڈاکٹر عافیہ سے ان کی بہن فوزیہ کی ملاقات ہوئی تو عافیہ زار و قطار رو رہی تھیں اور جیل حکام عافیہ کو وہاں سے لے گئے مگر ان کی بہن جوکہ سامنے دوسرے کمرہ میں تھیں وہ ان کو بھول گئے، اس طرح ڈاکٹر فوزیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے اس کمرے میں بند رہیں۔

وکیل کیلاؤ اسٹیفورڈ اسمتھ نے اس مقدمے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ کی رہائی سے متعلق وہ کافی پرامید ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ آج نیویارک میں ہیں اور کل وہ واشنگٹن جا رہے ہیں جہاں پر ان کی ملاقاتیں کچھ ایسے افراد سے طے ہیں جو کہ وائٹ ہاؤس کو اس سلسلہ میں آگاہی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن حکام سے ان کی ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہ ان کے نام شیئر نہیں کر سکتے مگر ان کو اب کافی امیدیں قائم ہے کہ وہ اس مقدمے میں کافی زیادہ پیش رفت ہورہی ہو ہے اور ہم اس ضمن میں بالکل صحیح سمت جا رہے ہیں۔

Leave a Comment