ٹیلیفون ٹیپنگ

بہت چیخ و پکار ہے۔ ہر طرف سے احتجاج کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف حکومت نے آئی ایس آئی کو عام شہریوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ وفاقی حکومت کے اس اقدام کو آئین پاکستان کی دفعہ 14 سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفعہ 14شرف انسانی (Dignity)اور ہر شہری کی نجی زندگی (Privacy) کا تحفظ کرتی ہے۔ اسی دفعہ کی ذیلی شق 2 کے تحت کسی بھی شخص کو شہادت حاصل کرنے کی غرض سے تشدد یا اذیت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے کئی فیصلوں میں خفیہ اداروں کی طرف سے عام شہریوں بشمول سیاستدانوں، صحافیوں، ججوں اور فوجی افسران کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ چند دن پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس کیس میں فون ٹیپ کرنے کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا تھا اور اسی فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کو عام شہریوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی اجازت دی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی ہے کہ آئی ایس آئی کو یہ اختیار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996ء کے تحت دیا گیا ہے لیکن وہ بھول گئے کہ اس کے علاوہ فیئر ٹرائل ایکٹ 2013ء بھی ہے جس کے تحت کوئی بھی ادارہ کسی شہری کا ٹیلیفون ٹیپ کرنے سے قبل کسی عدالت سے اجازت نامہ حاصل کرنے کا پابند ہے۔ تارڑ صاحب ماضی میں خفیہ اداروں کی طرف سے عام شہریوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے اقدامات کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن وزارت کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ آج کل وہ اکثر ایسے ایسے کاموں کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بہت سے پرانے دوست اور خیر خواہ ہنسنے کی بجائے افسوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ آج کل تحریک انصاف کے دوست آئی ایس آئی کی طرف سے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی بہت بڑھ چڑھ کر مذمت کر رہے ہیں لیکن جب تحریک انصاف والے حکومت میں تھے تو وزیراعظم عمران خان کھلم کھلا ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی حمایت کیا کرتے تھے۔ اگر ماضی میں عمران خان آئی ایس آئی کی طرف سے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی حمایت کرتے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم آج بھی اس کام کی حمایت کریں۔ جو کام کل غلط تھا اور ہم اسے غلط کہہ رہے تھے اسے آج بھی غلط ہی کہا جائے گا۔

مجھے یاد ہے کہ 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کیا تو سپریم کورٹ میں حکومت کی برطرفی کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی اور سماعت کے دوران سیاستدانوں، ججوں اور جرنیلوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس سماعت کے دوران ایک فہرست سامنے آئی جس میں ان لوگوں کے نام تھے جن کے انٹیلی جینس بیورو ٹیلیفون ٹیپ کر رہا تھا۔ اس فہرست میں میرے گھر اور دفتر کا نمبر بھی شامل تھا۔ انٹیلی جینس بیورو کا موقف تھا کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے کے لئے کچھ مشکوک افراد کے ٹیلیفون ٹیپ کئے جا رہے تھے لیکن جب میںنے اس زمانے میں آئی بی کے ایک اعلیٰ افسر سے پوچھا کہ آپ اسلام آباد میں میرا فون کیوں ٹیپ کر رہے تھے تو انہوں نے بڑے پراسرار انداز میں کہا کہ دراصل آپ کو آئی ایس آئی والے فالو کرتے تھے اور آپ کے فون بھی ٹیپ کر رہے تھے تو ہمیں پتہ لگانا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں اور آپ کا پیچھا کر کے انہیں ایسی کونسی خبر مل جاتی ہے جو ہمیں نہیں ملتی۔ خفیہ اداروں کی اس کشمکش میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج جسٹس ملک قیوم اور شہباز شریف کی گفتگو ٹیپ ہوگئی جس میں وہ جج کو بار بار کہہ رہے تھے کہ آپ جلد از جلد محترمہ بے نظیر بھٹو کو سزا سنائیں۔ انہی جج صاحب کی سینیٹر سیف الرحمان کے ساتھ گفتگو بھی ٹیپ ہوگئی اور پھر یہ ساری گفتگو لیک بھی ہوگئی۔ معاملہ یہ سامنے آیا کہ ہمارے خفیہ ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے نام پر ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی اجازت حاصل کرتے ہیں اور پھر سیاستدانوں، صحافیوں، ججوں کے علاوہ خفیہ ادارے ایک دوسرے کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے لگ جاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو بنام وفاق پاکستان میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیں۔ خفیہ اداروں کی طرف سے عام شہریوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے معاملے کو عدالتی فیصلے میں غیرقانونی قرار دیا گیا۔ زیادہ پرانی بات نہیں۔ جب جسٹس فائز عیسیٰ پر عمران خان کی حکومت نے نااہلی کا ریفرنس دائر کیا اور معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تو قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اپنے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی شکایت کی۔ میں اس دن عدالت میں موجود تھا کچھ جج صاحبان جو آج انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بڑے پریشان نظر آتے ہیں انہیں اپنے ایک ساتھی جج کا ٹیلیفون ٹیپ کئے جانے پر کوئی اعتراض نہ تھا البتہ جسٹس منصور علی شاہ نے اس کارروائی میں عام شہریوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے اقدام کو غلط قرار دیا۔

شہباز شریف اچھی طرح جانتے ہیں کہ خفیہ ادارے صرف دہشت گردوں کے نہیں ان کے اپنے فون بھی ٹیپ کرتے ہیں اور اسی لئے شہباز شریف نے اپنی گفتگو کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے گھر اور دفتر میں خصوصی آلات نصب کروا رکھے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آج چیف جسٹس ہیں۔ انہیں بھی سب پتہ ہے کہ ان کے ٹیلیفون کیوں ٹیپ ہوتے تھے۔ ٹیلی فون ٹیپ کر کے دہشت گردی ختم ہو سکتی تو کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔ حکومت کی طرف سے آئی ایس آئی کو عام شہریوں کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی اجازت کو دراصل اداروں کے مابین جنگ کا ایک حربہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ حکومت ایکس (ٹوئٹر) پر پابندی لگاتی ہے اور پھر وزیراعظم سمیت ان کے اکثر وزراء وی پی این کے ذریعہ ایکس کو خوب استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس حکومت کے پاس اقتدار تو ہے لیکن اختیار نظر نہیں آتا۔ وہی کام کئے جا رہی ہے جو عمران خان کیا کرتے تھے۔ آئی ایس آئی کو ٹیلیفون ٹیپ کرنے کا اختیار دے کر حکومت نے اپنے آپ کو نہیں بلکہ آئین کو مزید کمزور کر دیا ہے جو پہلے ہی ڈول رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Leave a Comment