وفاقی بجٹ کے معاشی اثرات؟

حکومت نے وفاقی بجٹ کی منظوری سے جہاں اپنے اتحادیوں سے تعلقات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو ختم کیا ہے وہیں آئی ایم ایف سے ساڑھے سات ارب ڈالر کا اگلا پروگرام حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار کر لی ہے۔ تاہم اس بجٹ کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس بجٹ میں لگائے گئے نئے ٹیکسز اور دیگر اقدامات سے عام آدمی سے لے کر ایکسپورٹرز تک سب کو مالی دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بعض دیگر وفاقی وزرا نے بھی بجٹ میں لگائے گئے بھاری ٹیکسز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکومت کی مجبوری قرار دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور حکومت کی دیگر اتحادی جماعتیں بھی اس پر کھل کر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ اس حوالے سے ایکسپورٹرز اور دیگر کاروباری شعبوں کے علاوہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی ناخوش ہے۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس بجٹ نے پہلے سے دبائو کا شکار ملکی معیشت کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔اس سے گزشتہ کچھ عرصے میں مہنگائی میں کمی کے باعث حکومت سے متعلق نچلی سطح پر جو ایک مثبت تاثر پیدا ہوا تھا اسے بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ ایسے میں مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل ٹیکس گزاروں پر ٹیکس کے بوجھ میں مزید اضافہ کرنے کے باوجود بجٹ میں خاطر خواہ معاشی اصلاحات اور سمت کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس بجٹ میں سیاسی طاقت، منظم لابنگ یا حکومت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہ رکھنے والے طبقات کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے دور رس منفی معاشی اثرات کا خاطر خواہ تجزیہ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنے کی بجائے رجسٹرڈ کاروباری اداروں اور تنخواہ دار طبقے کو ایک بار پھر تختہ مشق بنا کر معیشت کی بنیادیں مزید کمزور کر دی ہیں۔دوسری طرف نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھانے، موبائل سمز بلاک کرنے یا ان کے غیر ملکی سفر پر پابندی کے جزوی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ٹیکس نہ دینے والے اس طبقے کے براہ راست احتساب سے کترا رہی ہے اور ایسے افراد نظام میں موجود خرابیوں اور چور راستوں کی وجہ سے اپنی آمدن پر عائد ہونے والے ٹیکس کی ادائیگی سے بچنا جاری رکھیں گے۔ اس بجٹ میں بہت سے ایسے اقدامات کیےگئے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد نظر آتے ہیں۔ ایک طرف حکومت ڈیری مصنوعات اور طبی خدمات جیسی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا الزام آئی ایم ایف پر عائد کرتی ہے جبکہ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت نے ڈیری مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو کم کرنے کے لیے کوئی خاص کوشش نہیں کی جس کے باعث بچوں کی خوراک اور بچوں کے فارمولا ملک کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے حالانکہ یہ اشیا تعیش کی بجائے ایک طبی ضرورت کے زمرے میں شامل ہیں۔اسی طرح حکومت نے برآمد کنندگان کے احتجاج اور تحفظات کے باوجود انہیں فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر منیمم ٹیکس رجیم میں شامل کرکے ایف بی آر کے افسران کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف کرپشن کی راہ ہموار ہو گی وہیں ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے والے برآمد کنندگان کے وقت کا بڑا حصہ ایکسپورٹ بڑھانے کی بجائے ایف بی آر کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹسز کے جوابات دینے میں گزرنے کا اندیشہ ہے۔ علاوہ ازیں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں اضافے اور بیرون ملک سفر پر بھاری ٹیکس عائد کر کے بزنس کمیونٹی اور پروفیشنلز کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو شعبہ جات یا افراد پہلے سے مناسب شرح کے ساتھ ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ،انہیں اس حوالے سے ریلیف دیا جاتا لیکن ایسے اقدامات سے ‘برین ڈرین کی شرح مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ گزشتہ چند سال سے ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہماری معیشت پہلے ہی کھوکھلی ہو چکی ہے۔ ایسے میں جہاں کاروباری شعبہ مالی مشکلات کا شکار ہے وہیں عام شہریوں کی قوت خرید بھی مسلسل کم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں سست روی کی جانب گامزن ہیں۔ ان حالات میں بہتر حکمت عملی یہی تھی کہ ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جاتے جو پہلے ہی اپنے حجم سے کم یا نہ ہونے کے برابر ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ تاہم حکومت نے ایک طرف بعض شعبوں پر ٹیکس کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈالنے میں بالکل بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ دوسری طرف بیوروکریسی اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے علاوہ انہیں مختلف ٹیکسوں کی ادائیگی میں استثنا دے کر ایک غلط مثال قائم کی ہے۔ اس سے حکومت اپنے سیاسی اتحادیوں اور مخالفین کو رام کرنے کے علاوہ بااثر افسرشاہی کی حمایت تو حاصل کر لے گی لیکن عوام کی اکثریت اس امتیازی ٹیکس پالیسی سے بالکل خوش نہیں ہے۔ اس سے حکومت کی سیاسی ساکھ اور اہلیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے ہر شخص پہلے ہی غم و غصے سے بھرا ہوا ہے جبکہ شدید گرمی اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بل اس چنگاری کو کسی بھی وقت ایک آتش فشاں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ بجٹ ان توقعات کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے جس کا حکومت اور اس کے اتحادی وعدہ کرتے رہے ہیں۔ نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس بجٹ سے اقتصادی تنظیم نو یا مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے بیرونی سرمایہ کاری کی کوششوں کو بھی زک پہنچے گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Leave a Comment