ن لیگ، پی پی، جے یو آئی کی مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے کی مخالفت

اسکرین گریب
اسکرین گریب

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

13 رکنی فل کورٹ بینچ نے کارروائی سنی، اس موقع پر کارروائی براہِ راست نشر کی گئی۔

13 رکنی فل کورٹ بینچ

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کا 13 رکنی فل کورٹ تشکیل دیا گیا ہے جو مخصوص نشستوں کے بارے میں کیس کی آج سے سماعت کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کاز لسٹ کے مطابق فل کورٹ بینچ میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی علالت کے باعث بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔

سماعت شروع ہوئی تو سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آ گئے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختون خوا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل کے دلائل

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہاں دو مختلف درخواستیں عدالت کے سامنے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختون خوا نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں ہماری حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر ہے، پشاور ہائی کورٹ کے آرڈر پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست تھی، سپریم کورٹ پہلی سماعت پر پشاور ہائی کورٹ کا متعلقہ فیصلہ معطل کر چکی۔

کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر دلائل دینے پہنچ گئے اور کہا کہ کنول شوزب کی جانب سے فریق بننے کی متفرق درخواست دائر کی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں ہدایت کی کہ فیصل صدیقی کو دلائل مکمل کرنے دیں پھر آپ کو بھی سنیں گے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ میں گزشتہ سماعت کا 3 رکنی بینچ کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیس میں فریقِ مخالف کون ہیں؟ بینیفشری کون تھے جنہیں فریق بنایا گیا؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی ہیں تفصیل دے دیں؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ خیبر پختون خوا سے قومی اسمبلی کی 8 نشستیں کس کس جماعت کو گئی ہیں؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ کے پی سے مسلم لیگ ن کو 4، جے یو آئی کو 2، پیپلز پارٹی کو بھی 2 نشستیں اضافی ملی ہیں، ایم کیو ایم کو سندھ سے خواتین کی ایک اضافی نشست ملی ہے، پیپلز پارٹی کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی 2، مسلم لیگ ن کو 9 نشستیں ملی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی کے لفظ ’کے پی‘ استعمال کرنے پر ریمارکس میں کہا کہ خیبر پختون خوا کے لوگ ناراض ہوں گے اگر آپ نے کے پی کہا، یا تو دیگر صوبوں کے لیے بھی مخفف استعمال کریں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ یاد دہانی کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں بینیفشری جماعتوں کا بتا دیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ ایم کیو ایم 1 نشست کی بینفشری ہے، پنجاب سے قومی اسمبلی کی 2 نشستوں پر پیپلز پارٹی بینفشری ہے، مسلم لیگ ن پنجاب سے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر بینفشری ہے، خیبر پختون خوا سے مسلم لیگ ن 4، جے یو آئی 2، پیپلز پارٹی 2 قومی اسمبلی کی نشستوں پر بینفشری ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ یہ آپ نے 20 نشستیں بتائی ہیں؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اقلیتوں کے کوٹے پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی کو ایک ایک نشست ملی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن سے پوچھیں گے کہ یہ 22 نشستیں ہیں یا 23 ہیں، اب صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بتا دیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، 1 پیپلز پارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی ہے، پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں، پنجاب میں 19 متنازع نشستیں ن لیگ، 1 پیپلز پارٹی اور 1 استحکامِ پاکستان پارٹی کو ملی ہے، اقلیتوں کی 1 متنازع نشست ن لیگ، 1 پیپلز پارٹی کو ملی، خیبر پختون خوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو 5، 5 نشستیں ملیں، 1 نشست پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور 1 عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبر پختون خوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ ان جماعتوں نے اپنی کتنی نشستیں جیتی ہیں؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل دورانِ سماعت بتا دیں۔

ن لیگ، JUI F ،PPP کی سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت

مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے جے یو آئی ایف کے وکیل کامران مرتضیٰ سے استفسار کیا کہ آپ کی جماعت کا پورا نام کیا ہے؟

جے یو آئی ایف کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ ہماری جماعت کا نام جمعیت علمائے اسلام پاکستان ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر آپ کی جماعت سے ف نکال دیں تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟

جے یو آئی ایف کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ پارٹی کا لیڈر نکل جائے تو پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اے این پی اور استحکامِ پاکستان پارٹی کی طرف سے کوئی ہے؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اے این پی اور استحکامِ پاکستان پارٹی کی طرف سے کوئی نہیں ہے، امیدواروں نے سرٹیفکیٹ لگایا تھا، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا کہ آپ آزاد امیدوار ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ کسی کو خود آزاد ڈیکلیئر کر دے؟ جب پارٹی بھی کہہ رہی ہو کہ یہ ہمارا امیدوار ہے، امیدوار بھی پارٹی کو اپنا کہے تو الیکشن کمیشن کا اس کے بعد کیا اختیار ہے؟

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا بینفشری جماعتوں میں سے کوئی عدالت میں سنی اتحاد کونسل کی حمایت کرتی ہے؟

اس موقع پر تمام دیگر جماعتوں نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت کر دی۔

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی جانب سے بھی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت کی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کامطلب ہوا کہ آپ سب اضافی ملی ہوئی نشستیں رکھنا چاہتے ہیں۔

دورانِ سماعت بجلی چلی گئی

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بجلی چلی گئی جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہاں تو اب لائٹ بھی چلی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بجلی چلی گئی تو جنریٹر سے کیوں نہیں آئی؟ ٹیلیویژن اور لائٹس تو جل رہی ہیں، میرے خیال میں صرف کمرۂ عدالت کے ایئرکنڈیشن نہیں چل رہے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو تحریکِ انصاف کو انتخابی نشان سے محروم کر دیا تھا، پشاور ہائی کورٹ نے 10 جنوری کو الیکشن کمیشن کا حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ 22 دسمبر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کی اپیل پر سپریم کورٹ نے 13 جنوری کو پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد آرٹیکل 17 کے تحت قائم سیاسی جماعت ختم ہو گئی تھی؟ کیا انتخابی نشان واپس ہونے پر سیاسی جماعت امیدوار کھڑے نہیں کر سکتی؟ تاثر تو ایسا دیا گیا جیسے سیاسی جماعت ختم ہو گئی اور جنازہ نکل گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے سے سیاسی جماعت تمام حقوق سے محروم ہو جاتی ہے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی بطور جماعت برقرار تھی اور اس نے مخصوص نشستوں کی فہرستیں بھی جمع کرائی تھیں؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی نے فہرستیں جمع کرائیں لیکن الیکشن کمیشن نے وہ تسلیم نہیں کیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوالات چھوڑیں، اپنے طریقے سے جواب دیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے ہنستے ہوئے چیف جسٹس سے کہا کہ شکر ہے کہ ابھی آپ نے سوال نہیں پوچھے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فل کورٹ میں بیٹھنے کا مزا اور تکلیف یہی ہے۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف جا سکتا ہے؟

الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی: جسٹس منیب

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 218 (3) کا حوالہ دینا بہت پسند ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی، الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے کہ سنی اتحاد کونسل الیکشن نہیں لڑی ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا ہے، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے تحریکِ انصاف کی شمولیت ہے تو پہلے ہو چکی تھی۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں تحریکِ انصاف کو ملیں گی۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں بلکہ سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیے۔

چیف جسٹس نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل کو جواب دینے سے روک دیا

ججز کے سوالات پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی کو جواب دینے سے روک دیا۔

چیف جسٹس اور جسٹس منیب کے درمیان جملوں کا تبادلہ

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں، ہم اپنا فیصلہ کر لیں گے، میں ایک بار ایک عدالت میں پیش ہوا تو کہا تھا کہ آپ اگر فیصلہ کر چکے ہیں تو میں اپنا کیس ختم کرتا ہوں، آپ اپنے دلائل نہیں دیں گے تو مجھے کیا سمجھ آئے گی کہ آپ کی جانب سے کیا لکھنا ہے، میرا خیال ہے کہ فیصل صدیقی صاحب! ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ غیر ذمے دارانہ بیان ہے، فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا حق ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصل صاحب! آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیر ذمے دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پہلے شمولیت درست مانتا ہے بعد میں مخصوص نشستیں بھی نہیں دیتا، رکنِ اسمبلی کہہ سکتا ہے کہ پہلے شمولیت سے روکا نہیں تو اب حق بھی دیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا آزاد امیدوار کے لیے لازمی ہے کہ سیاسی جماعت میں شامل ہو؟ آزاد امیدوار رجسٹرڈ سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے؟ مخصوص نشستیں خود کار نظام کے تحت تو نہیں مل سکتیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آزاد امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل میں شمولیت سے نہیں روکا، الیکشن کمیشن کہہ سکتا تھا کہ اس جماعت نے تو الیکشن ہی نہیں لڑا، الیکشن کمیشن نے مگر ایسا نہیں کیا اور سنی اتحاد کونسل میں اُمیدواروں کی شمولیت کو تسلیم کیا، 3 دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے کہہ دیا کہ آپ کو تو مخصوص نشستیں نہیں ملنیں، اب وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے شمولیت کرائی، اب میں اپنا حق مانگنے آیا ہوں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلے کے نشان والے فیصلے پر عوام کو مس گائیڈ کیا گیا، آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں بھی شامل ہو سکتے تھے، پابندی نہیں تھی۔

جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے، میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، آپ نے آدھے گھنٹے سے کچھ بھی نہیں لکھوایا۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں پہلے حقائق سپریم کورٹ کے سامنے رکھ رہا ہوں، آپ لکھ لیں کہیں قلم سوکھ نہ جائے۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ حقیقت کیوں نہ دیکھیں؟ سنی اتحاد کونسل ہمارے سامنے اس لیے ہے کیونکہ اس میں پی ٹی آئی کے فاتح امیدوار شامل ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل میں کتنا وقت لگے گا؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دلائل میں 2 سے 3 گھنٹے لوں گا اور کچھ دستاویزات سپریم کورٹ کے سامنے رکھوں گا، قانون کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے کسی جماعت کا انتخابات لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہو جائیں تو مخصوص نشستیں دی جاتی ہیں، ماضی میں ایک قانون کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے انتخابات لڑنا اور 5 فیصد ووٹ لینا لازم تھا جو ختم کر دیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا، حقیقی پوزیشن یہی ہے؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی سارا تنازع ہی یہی ہے، الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے 100 سیٹوں پر الیکشن لڑے اور ہر سیٹ ایک ووٹ سے ہار گئی، ہو سکتا ہے کہ کوئی جماعت کہے کہ مجھے ووٹ سب سے زیادہ ملے، جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو پوری جمہوریت کو دیکھنا چاہیے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کے مطابق انتخابات کے 2 مراحل ہیں انتخابات سے پہلے اور بعد میں۔

جسٹس امین الدین خان نے سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کی سیاسی جماعت نے کوئی ایک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرایا تھا؟

سنی اتحادکونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سر یہی کیس میں اصل سوال ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انگریزی کے لفظ سیکیور کا مطلب صرف الیکشن جیتنا نہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر آزاد امیدوار اپنی جماعت بنا لیں تو کیا مخصوص نشستیں لے سکتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میرے خیال سے سیاسی جماعتیں پہلے سے رجسٹر ہو چکی ہوتی ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کینیڈین عدالت گیا تو وہاں وکیل کو ایک گھنٹے کا ٹائم دیا گیا تھا، کینیڈین عدالت میں ججز 1 گھنٹےمیں سوال بھی پوچھ رہے تھے۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر وکیلوں کو پتہ ہو کہ 1 گھنٹہ ہے تو وہ ختم کر دیں گے، یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے، میری بیگم جو وقت مقرر کرتی ہیں، میں اس سے آگے نہیں جاتا۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

کیس کا پسِ منظر

6 مئی کو گزشتہ سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

3 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی معطلی صرف اضافی نشستوں کی حدتک قرار دی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیج دیا تھا۔

سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

Leave a Comment