نیتن یاہو اپنے ملک میں غیر مقبول ، امریکا کا خطے میں کردار طاقتور نہیں رہا، ماہر مشرق وسطیٰ امور

نیتن یاہو اپنے ملک میں غیر مقبول ، امریکا کا خطے میں کردار طاقتور نہیں رہا، ماہر مشرق وسطیٰ امور

کراچی ( ٹی وی رپورٹ) ماہر مشر ق وسطیٰ امور کامران بخاری نے جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے ملک میں بہت غیرمقبول ہیں، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں کردار ماضی جیسا طاقتور نہیں رہا ہے، امریکا میں انتخابات کا سال ہے جہاں ٹرمپ اور جوبائیڈن میں ری میچ ہونے جارہا ہے، غزہ میں تنازع جتنا بڑا ہوچکا ہے امریکا اس حد تک نہیں چاہتا تھا، ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے امکانات ہیں اس لیے وہ تنقیدی بیانات دے رہے ہیں۔ کامران بخاری کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں محمود عباس کی حکومت کئی دہائیوں سے غیرفعال ہے، اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کرپشن کی حدیں پھلانگ چکی ہے، فلسطینی اتھارٹی کی قیادت بہت بوڑھی ہے، صدر محمود عباس خود 87سال کے ہیں۔ کامران بخاری نے کہا کہ مصر اور عرب ممالک غزہ تنازع میں نہیں پڑناچاہتے اس کے بعد بال امریکا کے کورٹ میں ہی آجاتی ہے، تین یورپی ممالک اسپین، ناروے اور آئرلینڈ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا بڑی پیشرفت ہے، غزہ میں ہزاروں معصوم لوگوں کی جانیں گئی ہیں، لاکھوں فلسطینی اپنے ہی علاقے میں پناہ گزین بن گئے ہیں، غزہ کا 80 فیصد علاقہ مسمار کردیا گیا ہے، مگر اس کے بعد فلسطینی تنازع دنیا کی اولین ترجیح بن گیا ہے، امریکا اور یورپی ممالک میں بلند آواز سے فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی جارہی ہے۔ کامران بخاری کا کہنا تھا کہ دنیا فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے تیار ہوچکی ہے، مگر فلسطینی ریاست کے قیام میں ابھی بھی آٹھ دس سال لگیں گے، پہلے غزہ میں بھوک و افلاس کا مقابلہ کرنے والے فلسطینیوں کو ریلیف پہنچانا بہت بڑے پیمانے کاکام کرنا ہے، حماس اب کتنی طاقتور ہے یہ کسی کو نہیں پتا ہے، اسرائیل کہتا ہے غزہ اور رفح میں آپریشن مکمل ہونے کے بعد حماس بہت کمزور ہوجائے گی۔ کامران بخاری نے کہا کہ حزب اللہ اپنا نقصان کر کے حماس کا ساتھ نہیں دے گی، ایرانی اور حزب اللہ سمجھتے ہیں اس وقت اسرائیل کے ساتھ بڑے پیمانے پر چھیڑ خانی کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہے، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل پیچھے ہٹنے کیلئے شروع نہیں کیا تھا، سعودی عرب کو خطرہ اسرائیل سے نہیں ایران سے ہے۔

Leave a Comment