نیب ترامیم کیس براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد، تحریری فیصلہ جاری

نیب ترامیم کیس براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد، تحریری فیصلہ جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان (ایس سی پی) نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کیس براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

ایس سی پی نے نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی 30 مئی کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ اب تک 40 مقدمات کی سماعت میں عدالتی کارروائی کو براہ راست دکھایا گیا ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہاگیا کہ لائیو عدالتی کارروائی کو ذاتی مقاصد کےلیے استعمال کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نیب ترمیم کے خلاف دائر درخواست میں کبھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

حکم نامے کے مطابق درخواست میں جواز پیش کیا گیا کیس کی عدالتی کارروائی براہ راست نشر نہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ کے پی حکومت کا جواز حقائق سے منافی ہے، بہت کم مقدمات کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی۔

عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ کچھ مقدمات کی براہ راست نشریات دکھائی گئیں بعد میں نشریات روک دی گئی۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست میں کوئی قانونی نقطہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا خیبر پختونخوا حکومت کے بنیادی حقوق سے کیسے انحراف کیا جا رہا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب ترامیم کیس میں بانی پی ٹی آئی نے خواجہ حارث کی خدمات بطور وکیل حاصل کیں، اُنہوں نے اپنی درخواست میں کے پی حکومت کو فریق نہیں بنایا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 15 ستمبر 2023 کے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر ہوئیں، انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی کو جیل میں نوٹس بھیجا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ویڈیو لنک کی سہولت کی اجازت دی گئی، بانی نے وکلاء سے ملاقات کی اجازت مانگی، جو دے دی گئی۔

عدالت فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی اب وکلاء کریں گے لیکن ان کی ویڈیو لنک کی سہولت موجود رہے گی، عوام نے نیب ترامیم کے کیس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعت کا سربراہ کہہ کر سنا جائے تو امکان ہوتا ہے عدالتی کارروائی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

ایس سی پی کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ان وجوہات پر عدالت لائیو اسٹریمنگ کی درخواست کو مسترد کرتی ہے، عدالت کے خدشات عدالتی کارروائی کے اختتام پر درست ثابت ہوئے۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ مسٹر نیازی نے بات کرتے ہوئے عام انتخابات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا ذکر کیا، ان معاملات کا نیب ترامیم انٹرا اپیلوں سے کوئی تعلق نہیں، اس مقدمہ میں لائیو اسٹریمنگ کی درخواست ناقابل سماعت اور میرٹ پر نہیں۔

ایس سی پی کے حکم نامے میں کہا گیا کہ براہِ راست نشریات دکھانے کی خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

Leave a Comment