نواز شریف کا پارٹی پرجو کنٹرول رہا آج بھی نظر آتا ہے، تجزیہ کار

نواز شریف کا پارٹی پرجو کنٹرول رہا آج بھی نظر آتا ہے، تجزیہ کار

 کراچی (ٹی وی رپورٹ) نواز شریف مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب،مسلم لیگ ن کی صدارت 6 سال بعد دوبارہ نواز شریف کے پاس آئی۔

اس پر جیو خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار، مظہر عباس نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف کا پارٹی پر جو کنٹرول رہا ہے وہ آج بھی نظر آتا ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار، شہزاد اقبال نے کہا کہ مجھے کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آرہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں کچھ بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔

پنجاب کی سیاست میں مقبولیت اسی وقت ملتی ہے جب اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ لے کر چلتے ہیں ۔جب آپ کی بیٹی وزیراعلیٰ اور بھائی وزیراعظم ہو تو آپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ نہیں بناسکتے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار، مظہر عباس نے کہا کہ نواز شریف اس وقت پارٹی کے صدر منتخب ہوئے ہیں اس بات کی توقع تھی یہ بات خلاف توقع نہیں ہوئی۔

دوبارہ ان کو بلامقابلہ ن لیگ کا صدر منتخب ہونا تھا۔ ماضی میں نواز شریف کا پارٹی پر جو کنٹرول رہا ہے وہ آج بھی نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ ن ان کو وزیراعظم نامزد کرسکتی تھی لیکن انہوں نے خود وزیراعظم نہ بننے کا فیصلہ کیا۔

وہ وزیراعظم اس وقت بننا چاہ رہے تھے جب ن لیگ کی اسمبلی میں سادہ اکثریت ہوتی۔ نوا زشریف کا امتحان بہت ہے کیوں کہ جس انداز میں 8 فروری کے انتخابات ہوئے۔ مسلم لیگ ن کو پنجاب میں بہت چیلنجز کا سامنا ہے ۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست کا کوئی نیا انداز لے کر آئیں گے۔ماضی میں ہم نے ان کے بہت سے رنگ دیکھیں ہیں گوجرانوالہ کا رنگ بھی دیکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ پارٹی کی سمت کیا سیٹ کرتے ہیں۔ان کی حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کا ہے اس کے لئے وہ پارٹی کوحکومت کو کیا گائیڈ کرتے ہیں۔

ج کی تقریر میں ہمیں زیادہ جارحیت نظر نہیں آئے گی آج کی تقریر میں نسبتاً زیادہ ٹھہراؤ نظر آئے گاکیوں کہ ان ہی کی حکومت ہے کیوں کہ ان کے بھائی وزیراعظم ہیں۔

Leave a Comment