ناروے آئرلینڈ سپین نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیااسرائیل میں کھلبلی

(24 نیوز)ناروے ، آئرلینڈ اور سپین کی طرف سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد اسرائیل کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ۔

یورپی ممالک ناروے اور آئرلینڈ نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پراسرائیل نے دونوں ملکوں سے اپنے سفیر طلب کرلیے ہیں ۔یورپ کے دو نوں اہم ممالک فلسطین کو آزاد تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ،اسرائیل کی حکمران جماعت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہےاور فلسطینیوں کی تحریک کو نئی جہت ملی ہے ، اس صورت حال کو جانچنے اور آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے تل ابیب نے آئرلینڈ اور ناروے سے اپنے سفیر بلالیے ہیں۔

ضرورپڑھیں:ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیرخارجہ اور رفقا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ناروے کے وزیراعظم  جونس گار اسٹور کا کہنا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا مقصد دیگر ملکوں کو پیغام بھیجنا ہے۔وزیراعظم جونس گار اسٹور نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم آئرلینڈ سیمون ہیرس نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئرلینڈ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔

ادھر سپین کے وزیراعظم پیڈرو سینشز نے پارلیمنٹ سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم متعدد وجوہات کی بنا پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں اور اسے مختصراً ہم تین الفاظ’امن، انصاف اور مستقل مزاجی‘ سے بیان کر سکتے ہیں۔ہمیں دو ریاستی حل کو عزت دینی ہو گی اور اس معاملے پر مشترکہ سکیورٹی بھی ضروری ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقین امن کے لیے مذاکرات کریں اور یہی وجہ ہے کہ فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں۔

ہسپانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسپین 28 مئی کو فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرے گا جبکہ ناروے کے وزیر خارجہ نے بھی 28 مئی کوباضابطہ طورپر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 فلسطینی ریاست کے بارے میں بیان کی اجازت بھی نہیں دیں گے:اسرائیل

یورپ کے تین اہم ممالک کی طرف سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے پر بے چینی پائی جاتی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق  اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا اور اپنے بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ کا دورہ 3 یورپی ممالک کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنےکا ردعمل ہے۔ا ہم فلسطینی ریاست کے بارے میں بیان کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ اور ناروے سے اسرائیل کے سفیروں کو واپس بلانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی درخواست بھارتی اکثریت سے منظور ہو چکی ہے اور اب اس درخواست کو منظوری کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔صیہونی جارحیت کے خلاف جنوبی افریقا کی جانب سے جرائم کی عالمی عدالت میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے بمباری جاری رکھے ہوئی ہے اس بمباری کے نتیجہ میں 35 ہزار کے لگ بھگ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہیں ۔

Leave a Comment