نئی دہلی سے ڈی پورٹ ہونے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ پاکستان پہنچ گئیں | پاکستان

0
74


برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں ،کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے تحت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آل پارٹی پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس میں  مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دورہ پاکستان پر آئے  برطانوی پارلیمانی وفد نے بھی شرکت کی۔

دو روز قبل نئی دہلی سے بے دخل (ڈی پورٹ) کی جانے والی برطانوی پارلیمانی گروپ برائے کشمیر کی چیئرپرسن اور لیبر پارٹی کی رہنما ڈیبی ابراہمز نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر کے عوام انتہائی مشکل صورتحال سے دو چار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  برطانیہ نہ پاکستان کا حامی ہے اور نہ ہی بھارت کا مخالف ہے بلکہ ہماری تشویش انسانی حقوق کی پامالی پر ہے۔

ڈیبی ابراہمز  کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

 برطانوی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی، دورے کا مقصد زمینی حقائق معلوم کرنا تھا۔

انہوں نے ہر ممکن تعاون پر پاکستانی حکومت کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ بھی جلد پاکستان کا دور ہ کریں گے۔

‘برطانوی پارلیمانی ارکان جہاں چاہیں جاسکتے ہیں’

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 5 اگست کے بعد بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمانی ارکان جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں، بھارتی اقدامات سے مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آگیا۔

خیال رہے کہ لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز کو دو روز قبل نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائیرپورٹ پر روک لیا گیاتھا۔

 ڈیبی ابراہمز برطانوی پارلیمانی گروپ برائے کشمیر  کے وفد کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر جانا چاہتی تھیں تاکہ وہاں کی اصل صورتحال دنیا کے سامنے آسکے۔

وہ مودی حکومت پر کڑی تنقید اور بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں غیرآئینی اقدامات کی کھل کر مخالفت کرتی آئی ہیں۔

انہوں نے برطانیہ میں انڈین ہائی کمشنر کو خط میں لکھا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی سے بھارت نے کشمیریوں کو دھوکا دیا ہے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here