مصنوعی ذہانت پر دسترس، وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے

مصنوعی ذہانت پر دسترس، وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے

جنیوا(اے ایف پی)اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی زبردست ابھرتی ہوئی طاقت پر دسترس حاصل کرنے کےلیے انسانیت کے ہاتھ سے وقت نکلاجارہا ہے،تاہم اس دوران سب کی خیر کے حصول اور اس سے درپیش سنگین خطرات کا تدارک بھی اہم ہے ۔

 اقوام متحدہ کی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی سربراہ ڈورین بوگڈان مارٹن نے جمعرات کو کہاہم نے بوتل سے جن کوباہرآنے دیدیاہے۔ہمارے ہاتھوں سے وقت نکلا جارہا ہے ، یہ بات انہوں نے جنیوا میں دوروزہ اے آئی نار گڈگلوبل سمٹ سے جنیوا میں خطاب میں کہی۔ بوگڈان نے کہاکہ یہ زندگی میں ایک بارملنے والا موقع ہے کہ اے آئی کے ذریعہ انسانیت کی رہنمائی کی جائے ۔

انہوں نے مصنوعی انٹلی جنس میں حالیہ پیش رفت کوغیرمعمولی قرار دیا۔جہاں ہزاروں افراد نے ماہرین کوسنا۔ جس میں بتایا گیا کہ اے آئی نے کس طرح سے موسمی تبدیلی بھوک افلاس اورسماجی تحفظ سے متعلق کوششوں میں معاونت کررہی ہے۔ انہوں نے اس بات کوبھی ہدف تنقید بنایاکہ اب بھی ایک تہائی انسانیت اس ٹیکنالوجی کے ثمرات سے لاتعلق ہے اس نئے انقلاب میں ہم نوانہیں ہے۔

 انہوں نے کہاکہ یہ تیکنیکی اوریجنل تقسم ناقابل قبول ہے اے آئی بی کے انسانیت کی بھلائی اوربرائی کی یکساں صلاحیتیں موجود ہیں جبکہ اے آئی کوانسانیت کےلیے محفوظ بنانا ضروری ہے۔

خصوصاً 2024جو امریکا سمیت درجنوں ممالک میں عام انتخابات 6 سال ہے ۔ انتخابی عمل میں اے آئی کے ذریعہ جعل سازی کابھی بڑاخطرہ ہے ۔ اس سے جہاں جمہوریت کوخطرہ ہے وہیں اس نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کوبھی مشکل میں ڈال دیاہے ۔

 آئی ٹی یو چیف نے کہاکہ اس وقت مصنوعی انٹلی جنس ہاتھوں تک محدود ہے ۔ تاہم انہوں نے ا س بات کاخیرمقدم کیاہے کہ یورپی یونین سمیت حکومتیں اے آئی یو کوریگولیٹ کرنےکےلیے قواعد وضوابط اورقوانین تیارکررہی ہیں ۔

Leave a Comment