قوم ملک کی خدمت کرنے اور اجاڑنے والوں کا موازنہ کرے: نوازشریف

(24 نیوز) قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے کہا ہےکہ قوم ملک کی خدمت کرنے اور اجاڑنے والوں کا موازنہ کرے۔

مری میں سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف  کا کہنا تھا کہ میں نے دن رات پاکستان کی خدمت کی ہے، جو بڑا کام پاکستان میں ہوا اس کے پیچھے مسلم لیگ ن ہے، جنگلا بس جنگلا بس کہنے والے پشاور میں اربوں روپے کھا گئے، پشاور میٹروبس گھپلوں کی انکوائری سامنے نہیں لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ٹیکس نظام کو آن لائن کرنے کا فیصلہ

میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ  کیا وجہ تھی ایک جمہوری حکومت کو اکھاڑ پھینکا گیا، میں نے جیل میں بیٹھ کر سب کچھ پڑھا، پرویز مشرف نے حکومت کو باہر پھینکا،پرویز مشرف دنیا سے چلے گئے، اب شکوہ کیا ہوگا،ہمیں حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ہوگا، مہنگائی کو آسمان تک پہنچا دیاگیا، قوم کو موازنہ کرنا چاہیے کس نے ملک کی خدمت  کی اور کس نے اجاڑا،پاکستان میں غریبوں کا جینا مشکل کردیاگیا، میں تو گھر گھر بجلی پہنچاکرگیابلکہ نکالا گیا تھا، آئی ایم ایف نے خود کہا تھا اب شاید پاکستان کو ہماری ضرورت نہیں پڑے گی۔

قائد مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عمدہ انسان ہیں، انہوں نے بہادری سے جیل کاٹی اور میرا ساتھ دیا،ان کا کہنا تھا کہ مجھے اقتدار سے نہ نکالا جاتا تو ملک ترقی کررہا ہوتا، شہبازشریف محنت سے کام کررہے ہیں،ان کو شاباش دوں گا، آپ ہمیں طعنہ دیتے ہیں، ڈیموکریسی کو آپ نے خود خراب کیا، میں کینہ،عداوت یا انتقام کی نیت رکھنے والا شخص نہیں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا احتجاج کا اعلان

نوازشریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرطیں مان لی گئیں تو غریب کیلئے کیسے مشکل پیدا نہیں ہوگی، آئی ایم ایف کے سہارے ڈھونڈنے والا بندہ نہیں ہوں، مریم نواز ہر جگہ پہنچ رہی ہیں روٹی کی قیمت کم کرنے پر شاباش کی مستحق ہیں۔

انہوں نے عمران خان پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کے پاس مدد مانگنے نہیں گیا تھا، نہ ہی میں نے بنی گالا جا کر ووٹ مانگے، ہم جیل میں تھے تو آپ نے اے سی اتروادیئے تھے، اب آپ جیل میں ہیں،میرا تو دھیان بھی ایئر کنڈیشنز کی طرف نہیں گیا،آپ نے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے۔

قائد مسلم لیگ ن کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت کے فروغ کیلئے بے نظیر بھٹو اور میں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔

Leave a Comment