Saturday, March 2, 2024
Online Free Business listing Directory to Grow your Sales
HomeLatest Breaking newsغیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا سدباب کیسے ممکن ہے؟  

غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا سدباب کیسے ممکن ہے؟  


میں اٹلی سے آنے والے کزن کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے لے کر گجرات کے لیے روانہ ہوا تو سرمایہ کاری کے لیے فکر مند کزن کی توجہ سڑک کے دونوں اطراف لگے آسمان کو چھوتے بل بورڈز پر پڑی جن پر پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو دعوت عام دی گئی تھی۔  
کزن نے ایک دو ہاؤسنگ سکیموں کے دل موہ لینے والے اشتہارات دیکھ کر جب سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ مانگا تو میں نے معمول میں یہ کہہ کر انہیں ٹالنا چاہا کہ یہ تو غیر قانونی ہیں، ان کے پاس تو این او سی ہی نہیں ہے یا پھر ابھی مطلوبہ زمین پوری نہیں ہے۔ 
میری یہ معلومات کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور راولپنڈی ڈویپلمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی ویب سائٹس پر فراہم کی گئی تفصیلات اور پراپرٹی مارکیٹ میں بعض ڈیلرز کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔  
سفر جوں جوں آگے بڑھتا رہا ہماری بحث بھی زور پکڑنے لگی کہ آیا پلاٹ خریدنا ہو تو اس کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کہاں خریدنا چاہیے۔ اس بحث نے کروٹ اس وقت لی جب اچانک سے میرے کزن نے کہا کہ جب ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی اکثریت غیرقانونی، غیر منظور شدہ ہے یا کچھ کے لے آؤٹ پلان منطور نہیں ہوئے تو ان کو اشتہارات کی اجازت کیوں دی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں؟ 
اسی مباحثے میں ہم اسلام آباد اور راولپنڈی کی حدود سے نکل کر گوجرخان پہنچ چکے تھے۔ خلاف توقع اب وہاں بھی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کاروبار چمک اٹھا ہےاور جگہ جگہ اشتہارات کی بھرمار ہے۔ ان سوسائیٹیز اور ان کے اشتہارات کا یہ سلسلہ کم و بیش پورا راستہ ہی جاری رہا اور اس بارے میں ہماری بات چیت بھی۔ 
اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی صورتحال 
ویسے تو تقریباً ہر شہر میں ہی اب نجی ہاوسنگ سکیمز کی بھرمار ہے لیکن صرف جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد میں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
 آر ڈی اے حکام کے مطابق ضلع راولپنڈی کی حدود میں مجموعی طور پر 317 غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز موجود ہیں جن کی منظوری متعلقہ محکموں سے نہیں لی گئی۔ 
جن میں ضلع کونسل راولپنڈی کی حدود میں 134، آر ڈی اے کی حدود میں 88، تحصیل مری میں 57، تحصیل ٹیکسلا میں 28، تحصیل گوجرخان میں 8 اور تحصیل کوٹلی ستیاں میں 3 غیرقانونی یا غیرمنظور شدہ ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں۔ 
اسی طرح سی ڈی اے حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کل 146 غیر قانونی رہائشی منصوبے موجود ہیں جن میں زون 1 میں 20، زون 2 اور 3 میں 7، 7 زون 4 میں 83 اور زون 5 میں 29 غیرقانونی یا غیر منظور شدہ ہاوسنگ سوسائیٹیز ہیں۔  
سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی ترقیاتی ادارے کی انتظامیہ نے اسلام آباد غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر دیا۔ جس کے تحت پہلے مرحلے میں ان سوسائٹیوں کے انتظامی اور تشہیر کے لئے بنائے جانے والے دفاتر کو سربمہر کیا جارہا ہے۔ 
دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں کارروائی صوبے کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے سربراہان پر مشتمل گزشتہ سال بننے والی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آگے بڑھائی جائے گی۔  
ترجمان آر ڈی اے حافظ عرفان احمد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی محمد سیف انور جپہ کی ہدایت پر ڈائریکٹر میٹرو پولیٹن پلاننگ و ٹریفک انجینئرنگ نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی راولپنڈی، چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ، راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ، ضلع کونسل راولپنڈی اور تحصیل کونسلز راولپنڈی سے راولپنڈی ضلع میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کی مشروم گروتھ کو روکنے کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے۔ 
راولپنڈی انتظامیہ نے متعدد ہاوسنگ سوسائٹیز کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے ان کے دفاتر کو مسمار کیا ہے جبکہ درجنوں کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں۔ 
غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات روکنے کے لیے اقدامات  
  ترجمان آر ڈی اے نے بتایا کہ انہوں نے پیمرا سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینلز کو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اشتہارات نشر کرنے سے باز رکھیں۔  
انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام صوبائی محکموں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر کسی جگہ پرکوئی بھی ہاوسنگ سوسائٹی ایڈورٹائزنگ کے سلسلہ میں اجازت مانگتی ہے تو اس کو اجازت دینے سے پہلے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے این او سی لینا لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ غیرقانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کو اشتہار بازی سے روکا جائے تاکہ وہ عوام کو گمراہ کرکے انھیں لاکھوں روپے سے محروم نہ کر سکیں۔  
جب ان کی توجہ ٹیلی ویژن پر چلنے والے نہ صرف جڑواں شہروں بلکہ ملک کے دیگر چھوٹے شہروں میں ہاوسنگ سوسائٹیز کے اشتہارات کی جانب مبذول کرائی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ دیگر اضلاع کی انتظامیہ اپنی جگہ جبکہ راوالپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنی جگہ پیمرا سے ان اشتہارات کو رکوانے کے لیے رجوع کرچکے ہیں۔ 
غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کی تشہیر روکنے میں پیمرا کا کردار  
 اس معاملے پر پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا پر اشتہارات کے حوالے سے پیمرا قواعد بڑے واضح ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا کے 2015 کے ضابطہ اخلاق کے تحت تمام اشتہارات کا پاکستانی قوانین کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ پیمرا آرڈینینس کے سیکشن 27 کے تحت ایسے تمام اشتہارات کی ممانعت ہے جو قانونی تقاضے پورے نہ کرتے ہوں۔  
حکام کے مطابق پیمرا نے اپریل 2022 میں ایک فیصلہ دیا جس کے تحت تمام ٹی وی چینلز کو غیرقانونی اور غیر منظور شدہ ہاوسنگ سوسائٹیز کے اشتہارات آن ایئر کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ جو چینلز بھی اس پر عمل در آمدنہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ اور چینل کے لائسنس کی معطلی کی سزا موجود ہے۔ تاہم یہ سزا صرف اسی صورت میں دی جاسکتی ہے جب کوئی شہری ان اشتہارات کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرواتا ہے  





Source link

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments