عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر باہر نہیں آسکیں گے، تجزیہ کار

عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر باہر نہیں آسکیں گے، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر باہر نہیں آسکیں گے، عدلیہ کا پاور کوریڈورز سے ٹکراؤ ملک اور عدلیہ کیلئے مفید نہیں ہوگا۔

نمائندہ جیو نیوز حیدر شیرازی نے کہا کہ میری خبر کے مطابق پارٹی چھوڑ جانے والے رہنماؤں کی واپسی سے متعلق کمیٹی بنائی گئی ہے، بیرسٹر گوہر خان اس کی تردید کرتے ہیں تو ان کا حق ہے۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اختلافات کی خبریں مزید زور پکڑتی جارہی ہیں، پارٹی کے اندر سے موجودہ قیادت کی حکمت عملی پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں، پارٹی میں گروپ بندی کے خدشات گہرے ہورہے ہیں بلکہ اب ان کا میڈیا پر اظہار بھی ہورہا ہے، یہ سب اس وقت ہورہا ہے جب عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت متعدد رہنما جیل میں ہیں۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسد قیصر، عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر خان کی آپس میں بہت انڈر اسٹینڈنگ ہے، تینوں رہنما عمران خان کے وفادار ہیں اور انتہاپسندی کی طرف بھی نہیں جانا چاہتے، یہ لوگ کوئی فیصلہ خود نہیں کرتے بلکہ ہر کام کی عمران خان سے اجازت لیتے ہیں۔

دوسری طرف پارٹی میں ایسے لوگ مضطرب اور بے چین ہیں جو اسمبلیوں سے باہر ہیں یا جیلوں میں رہے ہیں، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسمبلی میں جاکر بیٹھ جانے والے لوگ کمپرومائزڈ ہوگئے ہیں، پارٹی اختلافات میں فیصلہ کن حیثیت عمران خان کو حاصل ہے، عمران خان پارٹی میں کسی کو زیرو کردیں تو کوئی سسٹم بھی اسے ہیرو نہیں بناسکے گا۔ 

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اب جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی کیلئے سنجیدہ اپروچ یہی ہوگی کہ سیاسی اتفاق رائے کی طرف جایا جائے، محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کیلئے بڑا ریلیف ثابت ہوسکتے ہیں، عمران خان اگر محمود خان اچکزئی پر اعتماد کریں تو شاید جلد راستہ نکل سکتا ہے، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر باہر نہیں آسکیں گے، عدلیہ کا پاور کوریڈورز سے ٹکراؤ ملک اور عدلیہ کیلئے مفید نہیں ہوگا۔ 

نمائندہ جیو نیوز حیدر شیرازی نے کہا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس میں تین قراردادیں پاس کی گئیں، ان میں ایک قرارداد عمر ایوب کے استعفے سے متعلق ہے، ایک قرارداد پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کو پارٹی سے نکالنے کے حوالے سے بھی تھی، تیسری قرارداد بہت اہم تھی جس میں پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے لوگوں کی پارٹی پر تنقید کا سخت جواب دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کی کمیٹی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کریں گے، مولانا فضل الرحمٰن سے مخصوص نشستوں سے متعلق مشاورت ہوگی۔ 

حیدر شیرازی نے کہا کہ میری خبر کے مطابق پارٹی چھوڑجانے والے رہنماؤں کی واپسی سے متعلق کمیٹی بنائی گئی ہے، بیرسٹر گوہر خان اس کی تردید کرتے ہیں تو ان کا حق ہے، بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے کہ ان کی اور دیگر سینئر قیادت کی رہائی تک کسی کو واپس پارٹی میں نہ لیا جائے، عمران خان نے شیریں مزاری، ملائیکہ بخاری اور مسرت چیمہ کیلئے سافٹ کارنر کا اظہار کیا ہے۔ 

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اختلافات کی خبریں مزید زور پکڑتی جارہی ہیں، پارٹی کے اندر سے موجودہ قیادت کی حکمت عملی پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں، پارٹی میں گروپ بندی کے خدشات گہرے ہورہے ہیں بلکہ اب ان کا میڈیا پر اظہار بھی ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اس وقت ہورہا ہے جب عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت متعدد رہنما جیل میں ہیں، عمر ایوب کے استعفے کے بعد پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا سے رکن قومی اسمبلی اور کور کمیٹی کے رکن جنید اکبر نے کور کمیٹی سے استعفیٰ دیتے ہوئے اپنی پوسٹ میں کہا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، نہ میں کسی گروپ کا حصہ ہوں نہ بنوں گا، عمران خان میری جان بھی قربان لیکن پی ٹی آئی کے کارکنان کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ مخصوص لوگ بانی سے ملنے اڈیالہ جیل جاتے ہیں مگر ہمیں ملنے نہیں دیتے۔

ان کے مطابق ہمیں صرف یہی بتایا جاتا ہے کہ موجودہ پارٹی پالیسی عمران خان کی ہے، بدقسمتی یہی ہے کہ سارے فیصلوں کے بینفشری یہی لوگ، ان کے خاندان اور دوست ہیں، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے 9مئی کے بعد غبارے تک نہیں اڑائے۔ 

شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سابقہ اراکین بھی موجودہ قیادت پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ یہ رہنما پارٹی میں واپسی چاہتے ہیں،اس حوالے سے ذرائع کی خبر کے مطابق عمران خان کی ہدایت پرا یک سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو پارٹی میں سابقہ رہنماؤں کی واپسی کا فیصلہ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی رہائی تک کسی بھی سابق رہنما کی پارٹی میں واپسی کو روک دیا گیا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی اہم سماعت ہوئی، ایک دفعہ پھر ججز اور وکلاء کے درمیان دلچسپ مکالمے بھی ہوئے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد ن لیگ کے وکیل نے مخصوص نشستوں پر کامیاب قرار دیئے گئے وکیل کے دلائل اپنالئے۔

دوران سماعت جے یو آئی کی سیاسی پوزیشن کے حوالے سے اس وقت دلچسپ صورتحال اورتضاد سامنے آیا جب ان کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بھی حیران کن طور پر الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل اپنالیے جس پر ججز نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔ 

شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے ایک اہم قانونی تضاد پر بھی بحث ہوئی، فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد جولائی 2019ء میں عنزلہ میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے انتخابات ہوئے جن میں 7آزاد اراکین بھی منتخب ہوئے ان میں سے 3آزاد اراکین نے حیران کن طور پر بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی جس کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں کوئی نشست ہی نہیں تھی اور اس نے کوئی الیکشن بھی نہیں لڑا تھا۔

اس کے ساتھ ہی باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کیلئے ترجیحی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی تھی لیکن اس کے باوجود ان تین آزاد اراکین کی شمولیت کی وجہ سے بلوچستان عوامی پارٹی کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی ایک مخصوص نشست دیدی گئی۔دوران سماعت جب جج عائشہ ملک نے یہ نکتہ اٹھایا تو الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے اس فیصلے کو ہی غلط قرار دیدیا۔ 

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ٹیریان وائٹ کیس عمران خان کے سیاسی کیریئر پر اثرانداز ہو نہ ہو، اس کیس میں ان کی نااہلی ہو یا نہ ہو مگر یہ کیس حکومت، عدلیہ اور اداروں کو آمنے سامنے لانے اور ایک سٹنگ جج کی جانب سے اپنے ہی چیف جسٹس کو چارج شیٹ کرنے کی ایک اور وجہ ضرور بن سکتا ہے، یہ وہی معاملہ ہے جس میں دباؤ کا ذکر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں نے اپنے خط میں بھی کیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیریان وائٹ کیس پر جسٹس محسن اختر کیانی کا وہ آرڈر جاری کردیا ہے جس سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے اختلاف کیا تھا، اس کے ساتھ ہی آرڈر دینے والے بنچ کو توڑ کر نیا بنچ بنانے کیخلاف بنچ کے رکن جسٹس ارباب محمد طاہر کا فیصلہ بھی جاری کردیاگیا ہے جس میں انہوں نے اس پورے معاملہ میں جسٹس عامر فاروق کے کردار پر سوال اٹھایا ہے۔ 

Leave a Comment