عام انتخابات میں 14 پاکستانی و کشمیری نژاد برطانوی کامیاب

عام انتخابات میں 14 پاکستانی و کشمیری نژاد برطانوی کامیاب

لندن (مرتضیٰ علی شاہ/عمران منور/سعید نیازی) برطانوی عام انتخابات میں جمعرات کو 14 پاکستانی اور کشمیری امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، گذشتہ پارلیمنٹ میں بھی یہ تعداد 14 ہی تھی۔ 

اس مرتبہ درجنوں حلقوں میں غزہ کا ایشو سب سے اہم رہا، جہاں پڑنے والے ووٹوں نے دیگر پارٹیوں کے نتائج پر بھی جہاں اثر ڈالا، وہیں 4 آزاد امیدوار بھی غزہ ایشو کے باعث کامیاب ہوئے، جنہوں نے لیبر سے ان کی نشستیں چھینیں۔

4 ملین مسلم ووٹرز نے ا مرتبہ لیبر کی کئی محفوظ نشستوں پر اثر ڈالا اور اس مرتبہ ان حلقوں میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ جن حلقوں سے پاکستانی اور کشمیری امیدوار کامیاب ہوئے، ان میں برمنگھم لیڈی ووڈ کے حلقے سے لیبر کی اہم رہنما شبانہ محمود نے 15558ووٹ حاصل کئے، ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار احمد یعقوب نے غزہ ایشو پرمہم چلاتے ہوئے 12137ووٹ حاصل کئے۔

 شبانہ محمود پہلی مرتبہ 2010میں لیبر ٹکٹ پر ایم پی منتخب ہوئی تھیں اور وہ سر کیئر کی قریبی ساتھی تصور کی جاتی ہیں۔ 

برمنگھم پیری بر کے حلقے سے آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے غزہ ایشو پر کمپین چلاتے ہوئے غیر متوقع طور پر لیبر کے خالد محمود کو شکست دے دی، خالد محمود سب سے پرانے پاکستانی نژاد پارلیمنٹیرین تھے، جو پہلی مرتبہ 2001میں ایم پی منتخب ہوئے تھے۔

 ایوب خان نے 13303ووٹ حاصل کئے جبکہ خالد محمود نے 12796 ووٹ لئے۔ 

برمنگھم ہال گرین اینڈ موسیلی کے حلقے سے لیبر کے طاہر علی12798ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مقابلے میں فلسطین ایشو کے پلیٹ فارم سے لڑنے والے دو آزاد امیدوار محمد حفیظ اور شکیل افسر تھے، اگر ان کے ووٹ آپس میں تقسیم نہ ہوتے تو طاہر علی کیلئے یہ نشست لینا مشکل تھا۔

Leave a Comment