صوبے میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا, آٹا

0
46


صوبے میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا, آٹا بحران مصنوعی تھا جس پر …

صوبے میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا, آٹا بحران مصنوعی تھا جس پر قابو پا لیا:شوکت یوسفزئی

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، وزیراعلیٰ محمود خان کے دور میں پسماندہ علاقے ترقی کر رہے ہیں، آٹا بحران مصنوعی تھا جس پر قابو پا لیا گیا ہے، مہنگائی کا احساس ہے 3 ماہ بعد حالات ٹھیک ہو جائیں گے، کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے وزیراعلیٰ نے سیکرٹری ہیلتھ کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ملکی معاشی صورتحال بہتری کی سمت گامزن ہے، مولانا فضل الرحمان عوامی حقوق کیلئے نہیں بلکہ ذاتی مفادات کیلئے حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔

سوات پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو   کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر تین وزراء کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے برطرف کیا تھا اور اب اُن کے پاس بحالی کا بھی اختیار ہے، کوئی ذاتی عداوت نہیں وہ ہمارے ساتھی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو بھی مہنگائی کا احساس ہے، انشاء اللہ تین ماہ بعد یہ مسئلہ بھی حل ہو جائیگا جبکہ ایک مافیا نے مصنوعی آٹا بحران پیدا کیا تھا اس پر بھی قابو پا لیا گیا ہے، مسلم لیگ دور میں آٹے کے بجائے چوکر کھلایا گیا، ہمارے ساتھ اس وقت 30 اپریل تک کا سٹاک موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کے چائنہ کیساتھ کاروباری مراسم ہیں اور یہاں کے طلباء بھی چین میں زیر تعلیم ہیں ،وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں سیکرٹری صحت کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن عوامی حقوق کیلئے نہیں بلکہ ذاتی مقاصد کے حصول کیلئے حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں، کئی سالوں سے حکومتی مراعات کے مزے لینے والے اب وہی مراعات حاصل کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں لیکن عوام اُن کا ساتھ نہیں دے گی کیونکہ ان کا دھرنا پلان اے، بی، سی جس طرح ناکام ہو چکے ہیں اس طرح پلان ڈی بھی ناکام ہو گا،اب دوبارہ حکومت کے خلاف تحریک چلانا مردہ گھوڑے میں سانس ڈالنے کے مترادف ہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /سوات





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here