سینیٹ قائمہ کمیٹی کی صحافتی اداروں کو 45 دن میں اشتہارات کی ادائیگیاں کرنے کی ہدایت | پاکستان

0
28


سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات  نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی فوری ادائیگی یقینی بنانے کے لیے وزارت اطلاعات کو 45 دن میں میڈیا کو اشتہارات کی ادائیگیاں کرنے کی ہدایت کردی۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹرفیصل جاوید کی زیرصدارت ہوا۔ 

اس موقع پر  پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے جنگ گروپ اور ڈان گروپ کے اشتہارات کی بندش کا معاملہ اٹھایا تو چیئرمین نے اشتہارات کی بحالی کے لیے کوشش کرنےکا وعدہ کیا۔

 انہوں نے وزارت اطلاعات کو نشریاتی اداروں کے لیے نئی اشتہاری مہم جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔

 صدر پی بی اے شکیل مسعود نے کہا کہ حکومت میڈیا کے بقایاجات ادا کرے تو ورکرز کو فوری تنخواہ دینے کو تیار ہیں۔

 پی بی اے کے عہدیدار میر ابراہیم رحمان نے کہا کہ حکومت پر میڈیا کے 6 ارب روپے واجب الادا ہیں،  اِس میں حکومتِ سندھ پر واجب الادا پیسے شامل نہیں، حکومت ٹکڑوں میں نہیں،  یکمشت ادائیگی کرے تاکہ تنخواہوں کا بیک لاگ کلیئر کیا جاسکے۔

پی بی اےکی حکومت اور میڈیا گروپس کےمشترکہ اکاؤنٹ کی تجویز

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن  نے حکومت اور میڈیا گروپس کے مشترکہ اکاؤنٹ کی تجویز بھی دی، جس میں حکومتی اشتہارات کی مد میں ادائیگی ہو، اور  اسی سے ورکرز کو تنخواہ دی جاسکے۔ 

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے مہتاب عباسی نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کو تیار ہیں، پر میڈیا مالکان کو بھی جینے کا حق دیا جائے۔ 

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی آراے) کے نمائندہ بہزاد سلیمی نے اشتہارات کی ادائیگیوں کو ملازمین کی تنخواہوںٕ سے مشروط کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ( پی ایف یوجے) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ (آر آئی یو جے) کےجنرل سیکرٹری آصف بھٹی نے کہا کہ آزادی اظہار  پر غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوئی ہے۔

‘میڈیا کی آزادی سلب کرنے کیلئے معاشی طور پر دبایا جارہا ہے’

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے لیے اداروں کو معاشی طور پر دبایا جارہا ہے۔

 اجلاس میں سینیٹر رخسانہ زبیری، سینیٹر ساجد حسین طوری،  سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر روبینہ خالد نے بھی شرکت کی۔

ان کے علاوہ اجلاس میں  وفاقی سیکرٹری اطلاعات، پی آئی او، وزارت خزانہ ،ایس ای سی پی اور ای اوبی آئی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here