سیاستدانوں کی کمزوریاں، فوج کو مداخلت کا موقع ملا، تجزیہ کار

سیاستدانوں کی کمزوریاں، فوج کو مداخلت کا موقع ملا، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کا موقع ملا، اسمبلیاں ٹوٹنے کا سلسلہ پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوگیا، پھر سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا.

جنرل ایوب خان نے صدارتی الیکشن میں دھاندلی کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی، ایوب خان جیت گئے مگر پاکستان ہار گیا، تاریخ بار بار ہمیں بتاتی ہے کہ آپ جو کنواں دوسروں کیلئے کھودتے ہیں اسی کنویں میں خود بھی گرتے ہیں، آج بھی جو حکمراں ہیں انہوں نے بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا، وہ تمام غلطیاں جو ماضی کے حکمران کرتے رہے اور ایک دوسرے کیخلاف کنویں کھودتے رہے پھر خود بھی ان کنوؤں میں گرتے رہے اب موجودہ حکومت بھی ویسے ہی کام کررہی ہے۔

میزبان حامد میر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا، ایک سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد جناب قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہوئی،پاکستان آج کل سیاسی انتشار اور بے یقینی کے گرداب میں پھنسا نظر آتا ہے، پاکستان بننے کے فوراً بعد سیاستدانوں نے آپس میں لڑنا شروع کردیا، ایک دوسرے پر الزامات لگانے شروع کردیئے، اسمبلیاں ٹوٹنے کا سلسلہ پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوگیا، پھر سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا، پھر سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنا شروع کیا، سیاستدانوں کی انہی کمزوریوں کی وجہ سے فوج کو سیاست میں مداخلت کا موقع ملا، پھر 1958ء میں مارشل لاء لگ گیا، سیاستدانوں کی جبری نااہلیوں، گرفتاریوں اور سیاست میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا جو سلسلہ پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع ہوا تھا وہ آج تک نظر آرہا ہے.

 سپریم کورٹ بار بار ایسے فیصلے دیتی ہے کہ خفیہ اداروں کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے لیکن آج بھی سیاستدان شکایت کرتے ہیں کہ خفیہ ادارے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ اب تو عدلیہ کے ججوں نے بھی ایسی ہی شکایتیں کرنا شروع کردی ہیں۔ 

حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک دفعہ پھر ایک سیاسی جماعت پر پابندی کی بات ہورہی ہے جس کے اپنے دور حکومت میں چند سال پہلے کچھ سیاسی گروپوں اور جماعتوں پر پابندی لگائی گئی تھی، نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف پر پابندی کی بات ایک سال سے ہورہی ہے، پیپلز پارٹی جس کے پہلے دور حکومت میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی گئی تھی.

 جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی بھی پابندی لگ گئی تھی، آٹھ فروری 2024ء کے انتخابات سے کچھ دن پہلے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے ذریعہ پی ٹی آئی سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا مگر اس سے پہلے جنرل ضیاء کے دور میں پیپلز پارٹی سے اس کا انتخابی نشان تلوار بھی چھینا گیا تھا، موجودہ حکومت بظاہر کہتی ہے وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے لیکن تحریک انصاف کے لیڈرز پارٹی پر پابندی کا خطرہ محسوس کررہے ہیں۔

Leave a Comment