سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت آج ہو گی

(امانت گشکوری)سپریم کورٹ آف پاکستان میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فُل کورٹ سماعت کررہا ہے,الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے روسٹرم پر آکر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حامد رضا نے کاغذاتِ نامزدگی میں کہا کہ میرا تعلق سنی اتحاد اور تحریک انصاف سے ہے، حامدرضا نے دستاویزات میں کہا ہے کہ تحریکِ انصاف نظریاتی کے ساتھ منسلک ہوں، تحریکِ انصاف نظریاتی مختلف سیاسی جماعت ہے جس کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں، حامد رضا کو ان ہی کی درخواست پر ٹاور کا نشان انتخابات لڑنے کے لیے دیا گیا، حامد رضا نے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اردو والی دستاویزات میں حامد رضا نے نہیں لکھا کہ میں بطور آزاد امیدوار انتخابات میں اترنا چاہ رہا ہوں,الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ حامد رضا خود کو آزاد امیدوار نہ کہیں؟ تحریکِ انصاف نظریاتی کا ٹکٹ حامد رضا نے جمع نہیں کروایا، حامد رضا نے تحریکِ انصاف کا منسلک ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے، حامد رضا نے حلف لے کر کہا کہ میں تو تحریکِ انصاف نظریاتی میں ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامد رضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں؟

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے جواب دیا کہ حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد کیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کر دی ہے، بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سنی اتحاد کیس میں تحریک انصاف کو فریق بنایا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ سنی اتحاد کونسل اپیلوں کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف پر الزامات لگائے، الیکشن کمیشن کے الزامات حقائق کے برعکس ہیں، تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں سے محروم رکھا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی گئیں، مخصوص نشستوں کیلئے سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف اہل ہیں، مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینا غیر آئینی ہے، مخصوص نشستوں کیلئے سنی اتحاد کونسل فہرست دینے کیلئے تیار ہے۔

تحریک انصاف نے موقف اپنایا کہ مخصوص نشستوں کی فہرست دینے کی اجازت نہیں دی گئی، سنی اتحاد، تحریک انصاف کی سیٹیں دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹنا عوام کی منشا کیخلاف ہوگا، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار دیگر 13 سیاسی جماعتوں کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔

درخواست کے مطابق سنی اتحاد اور تحریک انصاف کے درمیان اتحاد ہے، چیئرمین سنی اتحاد حامد رضا تحریک انصاف کے حمایت یافتہ تھے اور وہ حلقہ 104 سے کامیاب ہوئے، آرٹیکل 51 واضح نہیں کرتا کہ آزاد امیدواروں کو ایک سے زائد سیٹیں جیتنے والی سیاسی جماعتوں میں ہی ضم ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، عدالت عظمیٰ نے 24 اور 25 جون کو اپیل پر سماعت کی تھی جہاں سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی، پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجا، اضافی نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کے وکیل مخدوم علی خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل بشیر مہمند نے دلائل مکمل کئے۔

Leave a Comment