سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلے کا وقت تبدیل

سپریم کورٹ فوٹو فائل
سپریم کورٹ فوٹو فائل

مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر فیصلے کا وقت تبدیل ہوگیا، سپریم کورٹ کا فل کورٹ جمعے کی دوپہر 12 بجے فیصلہ سنائے گا۔

فل کورٹ بینچ نے اس کیس کے فیصلے پر آج مشاورت مکمل کرلی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ مخصوص نشستوں کا مختصر حکم نامہ سنائیں گے۔ تین رکنی ریگولر بینچ مخصوص نشستوں کا فیصلہ سنائے گا۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیلیے درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ منگل کو محفوظ کیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا

سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستیں نہ دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔

آج سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق مشاورتی اجلاس میں فل کورٹ بینچ میں شامل تمام ججز موجود تھے۔ اجلاس نے آج اپنی مشاورت مکمل کرلی ہے۔

واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان تھا۔

اس سے قبل بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت کیس کے فیصلے سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔

مخصوص نشستوں سے متعلق گزشتہ اجلاس تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا تھا، اجلاس میں 13 رکنی فل کورٹ میں شامل تمام ججز شریک ہوئے تھے۔

جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کے فیصلے سے متعلق غور کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں سنیں۔

31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر دستیاب ججز کا فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر اپیلوں کی 9 سماعتیں کیں۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں، یہ 77 مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہیے تھیں مگر دیگر جماعتوں کو ملیں، 77 نشستوں میں قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 نشستیں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 77 متنازع مخصوص نشستوں کو معطل کر دیا تھا۔

Leave a Comment