سندھ میں نماز تراویح محدود، صرف انتظامیہ کو مسجد میں تراویح کی اجازت

0
18


کراچی: سندھ حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نماز تراویح کو محدود کرنے کا اعلان کردیا جس کے تحت صرف مسجد انتظامیہ کو ہی مسجد میں تراویح پڑھنے کی اجازت ہوگی۔

 وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے  ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ گزشتہ 4 جمعہ کی طرح اس جمعہ کو بھی صوبے بھر میں دوپہر 12 سے 3 بجے تک سخت لاک ڈاؤن ہوگا جس میں مسجد میں متعین لوگ باجماعت نماز پڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تراویح کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا کہ متعین لوگ ہی نماز تراویح مسجد میں پڑھیں اور باقی لوگ گھروں میں تراویح ادا کریں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے مساجد کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا میں نے صدر سے فون پر بات کی،  صدر نے ایک ٹوئٹ کی کہ اگر کسی وقت وفاقی یا صوبائی حکومت کو یہ محسوس ہوا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں یا اور خراب ہونے کا خدشہ ہے تو حکومت اس پالیسی کو تبدیل کرسکتی ہے اور اس معاہدے کی بنا پر ان فیصلوں کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ طبی ماہرین کے مطابق اگلے 15 دن بہت اہم ہیں اس لیے ان میں لاک ڈاؤن سخت کریں گے لہٰذا تراویح عوام گھروں میں پڑھیں، یہ فیصلے ہم نے ڈاکٹروں اور ماہرین کی مشاورت سے کیے ہیں، میری علماء کرام سے درخواست ہے کہ حکومت سے تعاون کریں، ہمارے اسپتال بھر گئے ہیں، اگر یہ فیصلے غلط ہیں تو اللہ پاک ہماری نیت دیکھ کر معاف کردے گا۔

ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ رات گئے عوام کو تکلیف دے رہے ہیں کہ کافی مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں، شاپنگ سینٹرز جو ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے ہم نے اُن کو فوری بند کرنے کا حکم دیا جب کہ چھوٹے تاجر  تعاون کر رہے ہیں اور ہوم ڈلیوری بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ  گزشتہ روز کراچی میں ڈاکٹروں نے اہم پریس کانفرنس کی اور اپنے خدشات کے حوالے سے آگاہ کیا، پی ایم اے پنجاب نے بھی وہی خدشات ظاہر کیے اگر بڑی اجتماعات سے گریز نہ کیاگیا تو یہ وبا بڑی تیزی سے پھیلے گی۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا کیسز کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے، اب تک متاثرین کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جس میں سے 3671 کا تعلق سندھ سے ہے جب کہ صوبے میں 73 مریض انتقال بھی کر چکے ہیں۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here