سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے چیمبر کا حصہ رہا ہوں: چیف جسٹس عامر فاروق

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کا اسلام آباد بار کی تقریب سے خطاب—اسکرین گریب
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کا اسلام آباد بار کی تقریب سے خطاب—اسکرین گریب

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے بتایا ہے کہ میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر کا حصہ رہا ہوں، میاں ثاقب نثار اور اُن کے والد میاں نثار دونوں وہ چیمبر چلاتے تھے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان وکلاء کی رہنمائی کے لیے بار کونسلز کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی وکیل سے سرزنش کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ سکھانا ہوتا ہے، یہ پروفیشنل اور اصولوں کا معاملہ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ ہم فیصلہ لکھتے ہوئے نہیں سوچتے کہ روسٹرم پر کن جملوں کا تبادلہ ہوا۔

انہوں نے زور دیا کہ نوجوان وکلاء کو کیس کی تیاری کے علاوہ اچھے آداب کے ساتھ عدالت میں پیش ہونا چاہیے، ہمارے وقت میں اگر کسی نے کیس کی فائل نہیں پڑھی ہوتی تھی تو عدالت سے ڈانٹ پڑتی تھی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کا کہنا ہے کہ ینگ وکلاء سے درخواست ہے کہ مقدمات کی فائلیں پڑھ کر آئیں، اچھی بار ہی اچھا بینچ بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب نے اپنا کردار ادا کر کے چلے جانا ہے، نوجوانوں نے اِن سیٹوں پر بیٹھنا ہے، وکلاء ٹائی اور بال اِدھر اُدھر ہوتے ہوئے عدالت میں پیش ہو جاتے ہیں، شروع کے دنوں میں اس بات پر غصہ کیا، اب چھوڑ دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے مزید کہا کہ ہم نے خیال کرنا ہے کیونکہ لوگ انصاف کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غصے میں دیا گیا فیصلہ صحیح نہیں ہوتا، میرا اسٹاف گواہی دے گا کہ میں نے اپنے کیریئر میں کبھی غصے میں فیصلہ نہیں دیا۔

Leave a Comment