دوسروں کی نصیحت کی ضرورت نہیں ،آزادی اظہار رائے پر یورپ کے متعدد ممالک میں دوہرے معیار ہیں،پاکستان

(24 نیوز)دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف 4 سے 8 جون تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔پاک ایران سرحد پر ہونے والا واقعہ ایرانی سرحد کے اندر ہوا۔ترجمان دفترخارجہ ممتاززہرابلوچ نے واضح کردیا۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کا اپنی حدود میں اسمگلرزکے خلاف آپریشن تھا۔ سرگودھا واقعےہپراپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں ۔ ہمیں دوسروں کی نصیحت کی ضرورت نہیں ہے۔آزادی اظہار رائے پر یورپ کے متعدد ممالک میں دوہرے معیار ہیں۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہورہی ہے، بھارت کا جموں کشمیر میں جاری مظالم کو روکنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف چین کا پانچ روزہ سرکاری دورہ کریں گے، وزیر اعظم چینی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کی دعوت پر چین کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اپنے دورہ چین کے دوران وزیراعظم دورے کےدوران چینی کمپنیوں سے بھی ملاقات کریں گے، وزیراعظم پاکستان اقتصادی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ضرورپڑھیں:آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے آذربائیجان کے وزیرخارجہ کی ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران وزیر اعظم چین میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے، پاکستان اور چین کے باہمی تعلق کے حوالے بات چیت کی جائے گی۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنے خدشات کا تبادلہ کیا ہے، پاکستان کو افغان سر زمین سے جو خدشات ہیں وہ افغان حکومت کو اگاہ کر دیے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے خط پر دفتر خارجہ کوئی رائے نہیں دیں گی، سپریم کورٹ ملک کا سب سے بڑا آئینی ادارہ ہے، بیرونی سفارتکاروں کو پاکستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے میں مختاط رہنا چاہیے۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آزربائیجان کے ہم منصب سے متعدد علاقائی عالمی امور اور مقبوضہ کشمیر پر بات چیت کی،گذشتہ دنوں دفتر خارجہ نے گندھارا سمپوزیم کا انعقاد کیا

سمپوزیم میں مشترکہ اقدار,  پرامن دنیا اور بین المزاہب ہم آہنگی پر بات کی گئی،پاکستان اور سینٹ لوسیا کے درمیان 29 مئی کو سفارتی تعلقات قائم ہو گئے،پاکستان کی جانب سے منیر اکرم نے  نمائندگی کی 

حریت کانفرنس  کا سری نگر میں دفتر سیل کر دیا گیا،بھارت کو کشمیریوں کو ان کا جق رائے دہندگی دینا چاہئے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان متعدد رابطہ کے چینلز موجود ہیں،گذشتہ روز سیکرٹری داخلہ اور افغانستان سے ڈپٹی سپیکرٹری داخلہ کے درمیان بات چیت ہوئی،یہ بات چیت دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے پر تھی،پاکستانی حکومت نے گذشتہ روز کی ملاقات میں بشام دہشت گردی پر متعدد شواہد پیش کر دیے گئے۔

برطانوی ہائی کمشنر جنین میریٹ کے متنازعہ بیان کا معاملہ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم ڈپلومیٹک کور کی جانب سے عوامی سطح کی تقریبات میں سفارتی آداب کا خیال کرنے کی تجویز دیتے ہیں،وزارت خارجہ کی جانب سے سپریم کورٹ کو کسی قسم کی ایڈوائس دینے کا علم نہیں،پاکستان یقین رکھتا ہے کہ ڈپلومیٹک کور عوامی اجتماعات میں بات کرتے ہوئے احتیاط کا دامن تھامیں گے،پاکستان وقتاً فوقتاً بھارتی ہائی کمشن کو ان کے شہریوں تک قونصلر رسائی فراہم کرتا رہتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے بارہا غزہ کے محاصرے کے خاتمے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے،پاکستان نے افغانستان سے بشام حملے میں ملوث دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے،افغان انتظامیہ نے تحقیقات کو نتیجہ خیز انجام تک پہنچانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

Leave a Comment