دورانِ عدت نکاح کیس میں اپیلیں، ججز کی میمز بناتے ہیں، کل سے میری بھی بنائی جا رہی ہیں: وکیل خاور مانیکا

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت کا آغاز ہوا تو خاور مانیکا کے وکیل نے دلائل دیے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا اپیلوں پر سماعت کر رہے ہیں۔

گزشتہ سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔

خاور مانیکا کی جانب سے دائر میڈیکل بورڈ اور علماء کی رائے کے حوالے درخواستوں پر بھی آج کے لیے فریقین کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خاور مانیکا کے وکیل کے دلائل

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 2 دن جو دلائل ہوئے وہ بحث بالجبر کے مترادف تھے، ان کی طرف سے جنرل التواء کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا گیا، اس میں بذریعہ کال ڈائریکشن دی گئی، ہائی کورٹ ہمارےکیسز میں کیوں نہیں بتاتی کہ ہمارا کیا قصور ہے، ہمارے پاس سوشل میڈیا پر کوئی گالم گلوچ کی مہم چلانے والا نہیں ہے، میں ماہِ رمضان میں بھی کبھی عدالتوں میں پیش نہیں ہوا، محرم الحرام سوگ کا مہینہ ہے، میں نے اہلِ بیت کی محبت میں عدالت سے التواء مانگا تھا، درخواست عدالت نے منظور کر لی تو ہائی کورٹ نے بغیر چیلنج کیسے ڈائریکشن دے دی؟ میری ایک کیس میں نہیں سب کیسز میں التواء کی درخواست منظور ہوئی تھی، عام لوگوں کی ضمانتیں ہونے کے بعد 5،5 دن مچلکے جمع نہیں ہوتے، میرے حق میں فیصلہ آیا تو خوشی کا اظہار کروں گا، خلاف آیا تو آپ کے خلاف مہم نہیں چلاؤں گا، ہمارے وکلاء نے صرف اونچا بولنے پر دہشت گردی کے پرچے بھگتے ہیں، جج ہمایوں دلاور صاحب کی کھلی عدالت میں طوفانِ بدتمیزی برپا کیا گیا، ججز کے قلم ان کے خلاف بھی چلے جنہوں نے عدالتوں میں ججز کی توہین کی، ایک جج عدالت میں ملزم کو کہتا ہے کہ گڈ ٹو سی یو۔

PTI وکلاء کا خاور مانیکا کے وکیل کے دلائل پر اعتراض

اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری کے دلائل پر اعتراض کیا گیا۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب آپ کے سامنے دھمکی آمیز دلائل دیے گئے تو ہم نے اعتراض نہیں کیا، وکیل کا کام نہیں ہے کہ گالم گلوچ کرے یا الزام تراشیاں کرے، شبلی فراز نے میرے معاون وکیل کو دیکھ کر کہا کہ ان کا علاج کیوں نہیں کیا جاتا، میرے لیے صدمہ تھا کہ ایوان میں بیٹھا شخص ایسی بات کیسے کر سکتا ہے؟ ہم وکیل ذاتی عداوتوں کا ایندھن کیوں بنیں؟ آپ لوگوں کی لڑائی ہے تو وہ ایوان میں بیٹھ کر لڑیں، مولانا فضل الرحمٰن کو مختلف القابات دیے گئے، آج ان کے ساتھ لانگ مارچ کے منصوبے بنا رہے ہیں، مجھے کہا گیا کہ شبلی فراز صاحب کے خلاف مقدمہ کریں، مگر ہم نے نہیں کیا، دوسری طرف سے اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ ہمارے خلاف درخواست دے چکے ہوتے، آپ مجھے مار سکتے ہیں، میرے معاون کو کچھ نہ کہا جائے۔

جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ سے کہا کہ آپ اب بس کریں، دلائل کی طرف آئیں۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ 2 سال سے ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، ہم پر دہشت گردی کے پرچے ہوئے، کیا سلمان صفدر نے یہاں دھمکی آمیز دلائل نہیں دیے؟ میری تربیت میں بدتمیزی، گالم گلوچ نہیں، جسے میں جانتا ہوں اس سے اجنبی نہیں بن جاتا، وکیل کا کام ڈنڈا اور اسلحہ اٹھانا نہیں، وکیل کا کام ایمانداری کے ساتھ کیس لڑنا ہے، دلائل کے لیے ٹائم مرضی سے رکھوں گا، میں ڈائریکشن کو مدِنظر نہیں رکھتا۔

جج افضل مجوکا نے انہیں ہدایت کی کہ نہیں، وقت کو مدِ نظر رکھنا پڑے گا۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں دلائل اپنی مرضی سے دوں گا، ڈائریکشن کا خیال دوسری پارٹی رکھتی ہے جس کے بندے اندر ہیں، جب یہ لوگ پی ٹی آئی میں پیدا نہیں ہوئے تھے تب بھی میرے بھائی پی ٹی آئی میں تھے، میرے بھائی مجھے کہتے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ہیں، آپ یہ کیس کیوں لڑ رہے ہیں؟ مجھے کسی نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے کہا کہ طاہر آصف کا بھائی میرے خلاف وکیل ہے، ہو سکتا ہے کہ میں نے بھی پی ٹی آئی کے دھرنوں میں شرکت کی ہو۔

زاہد آصف کے جملے پر جج کا مسکراتے ہوئے تبصرہ

اس پر جج افضل مجوکا نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا کہ یہ تو خبر ہے۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ریلیف نہیں ملے گا تو کیا ہم ججز کو ٹرول کرنا شروع کر دیں گے؟ خاور مانیکا تشدد کیس کا کہا گیا تو میں نے انکار کر دیا کہ دوسری طرف میرے وکلاء ہیں، اسلحے، ڈنڈے اور لڑائیوں سے مسئلے کا حل نہیں ملے گا، عثمان ریاض گل کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ ریسلر ہیں مگر وہ بہت پیارے انسان ہیں، سلمان صفدر صاحب سے یہ امید نہیں تھی کہ ان کی طرف سے ایسا ہو گا، کس نے کہا تھا کہ جی ایچ کیو پر حملہ کریں، جناح ہاؤس پر حملہ کر یں؟ مجھے میرا ایک مؤکل کہتا ہے کہ میں عدالت کا گیٹ توڑ دوں، مؤکل نے کہا کہ کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تو ان کو کچھ کہا نہیں جاتا، عدت پر 1992ء کے کیس کا حوالہ دیا گیا جس میں عدت کے 39 دن بتائے گئے، ایک سوال تھا کہ پہلی شکایت کے بعد دوسری شکایت کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ ہم نے پہلی شکایت درج نہیں کرائی اور وہ فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے واپس لے لی گئی تھی، مسلم فیملی لاء میں صرف 90 دن بتایا گیا، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اسلامی نظریاتی کونسل، فیڈرل شریعت کونسل، اسلامی اسکالر بھی موجود ہیں، میڈیکل ایکسپرٹ موجود ہیں، اپنی مرضی کے ایکسپرٹس سے رجوع کر سکتے ہیں، 2 درخواستیں دی ہیں وہ اس پر دلائل دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟

جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ دلائل دیں، بعد میں ان کو موقع دیں گے۔

سلمان صفدر نے میرے لیے بھاگ گئے کے الفاظ استعمال کیے: وکیل خاور مانیکا

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ قانون اس عدالت کو اجازت دیتا ہے کہ آپ ایڈیشنل شواہد مانگ سکتے ہیں، ان درخواستوں پر میرے معاون وکیل دلائل دیں گے، مجھے حیرت ہوئی، سلمان صفدر صاحب نے میرے لیے بھاگ کے الفاظ استعمال کیے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ ان کو کہہ دیا تھا، انہوں وہ الفاظ واپس لے لیے تھے۔

ملزم کا بھی میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے: وکیل خاور مانیکا

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے ایک غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے کہ عورتوں کی شادی نہیں ہو گی، ہائی پروفائل کیسز میں میڈیا دیکھتا ہے کہ عوام کا رجحان کس سائیڈ پر ہے، یہ ادراک غلط ہے کہ چوری، ڈاکا یا تشدد صرف مرد کرتے ہیں، میڈیا کسی بھی واقعے کو سنسنی خیز طور پر پھیلاتا ہے، فیصلہ ہونے سے پہلے میڈیا پر ٹرائل آ جاتا ہے، یہ کیس بھی شروع سے میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزم کا بھی میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے میں اس حق میں نہیں۔

اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے استدعا کی کہ میں نے سپریم کورٹ میں ملٹری ٹرائل کیس میں پیش ہونا ہے، جواب الجواب کے لیے آ جاؤں گا۔

سلمان اکرم راجہ عدالت سے اجازت لے کر روانہ ہو گئے۔

دلائل میں اسامہ بن لادن کا تذکرہ

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی جانب سے ہوا بنایا گیا کہ پاکستان میں بھی ایسے ایسے کیسز ہیں، ایک خاتون نے تھپڑ مار دیا اس پر ایک جج کو میڈیا کی ہائپ پر سزا ہو گئی، میڈیا پر کہا گیا کہ کیس اڑ گیا، میں نےمعاون وکیل سے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہو گیا؟ عدت ذاتی معاملہ نہیں، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے، پاکستان کے معاشرے میں اسکینڈل کی بھوک ہے، میڈیا پہلے سے ذہن بنا رہا ہے کہ ملزم کون ہے، اسامہ بن لادن اگر مارا نہ جاتا تو آج اس کا بھی کیس بنتا، کوئی وکیل ہوتا۔

میڈیا کی وجہ سے میرے مؤکل مظلوم سے مجرم بن گئے: وکیل خاور مانیکا

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا فیصلے کے اوپر اثر انداز ہو جاتا ہے، اس عدالت نے ججمنٹس کے حوالے دے کر ان کی مدد کی، ہم نے آپ پر اعتراض نہیں کیا، میرے مؤکل کا نقصان ہوا، اسے میڈیا نے ظالم قرار دے دیا، ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کا فیصلہ شریعت کے مطابق کیا جائے، میڈیا کی وجہ سے میرے مؤکل مظلوم سے مجرم بن گئے، عدالت نے اپیل کنندگان کو قانونی معاونت دی، ہم نے تو کبھی آپ کی ٹرولنگ نہیں کی، جس کا نقصان ہو گیا اسے ظالم بنا دیا، میرے کلائنٹ کے پاس میڈیا پلیٹ فارم نہیں۔

وکیل عثمان ریاض گل کا طنز

وکیل عثمان ریاض گل نے ان پر طنز کیا کہ ان کے ہمدردی کے دلائل سن لیے، عدالت نوٹ کر لے، اب قانونی دلائل پر آ جائیں،قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی ثبوت ضروری ہو تو اپیلیٹ کورٹ اجازت دے سکتی ہے۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ قابل ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنایا جائے، ہو سکتا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ان کے حق میں آ جائے، مجھے امید ہے کہ دوسری پارٹی کو میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا، میڈیکل رپورٹ آنے تک عدالت انصاف دینے کے نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی۔

عدت پر علماء سے رائے لی جائے: وکیل خاور مانیکا

اس کے ساتھ ہی خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے اضافی ثبوت اپیل میں پیش کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے جمع کروا دیے اور کہا کہ دوسری درخواست وفاقی شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل و علماء کو اپروچ کرنے کی ہے، عدت پر علماء سے رائے لی جائے، ہم کہتے ہیں کہ عدت کی مدت 90 دن ہے، درخواست ہے کہ علماء کا مؤقف آنے تک مزید سماعت نہ کی جائے۔

عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ کے دلائل

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہونے پر عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے خاور مانیکا کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں میڈیکل کی خواہش تھی اور جرح میں اس کا ذکر بھی ہے، میں ڈاکٹر نہیں لیکن مجھے مینوپاز کا علم ہے، اس موقع پر ان درخواستوں کی کوئی ضرورت نہیں، اضافی ثبوت سے متعلق اپیکس کورٹس کے فیصلے موجود ہیں۔

عثمان ریاض گل کا عمر شیخ کیس کا حوالہ

عثمان ریاض گل نے اضافی ثبوت کے حوالے سے عمر شیخ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ پراسیکیوشن کو کوئی کمی پوری کرنے کے لیے اضافی ثبوت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ان درخواستوں پر فیصلہ کرتے ہوئے شکایت کنندہ اور ان کے وکلاء کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہو گا، کیس کو التواء میں رکھنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، اب یہ عدالت کو کام سے روکنے کے لیے تیسری کوشش کی جا رہی ہے۔

وکیل عثمان گل کی خاور مانیکا کی درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا

وکیل عثمان ریاض گل نے درخواستوں کو جرمانے کے ساتھ مسترد کرنے کی استدعا کر دی۔

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میری ایک بھی التواء کی درخواست دکھا دیں، میں ان کی جانب سے دی گئی دھمکیاں بتاؤں گا، میرا چین کا کنفرم ٹکٹ تھا، میں نہیں گیا، اگر اپیل کنندگان اپنے گواہ لانا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی بھی اعتراض نہیں۔

سماعت میں وقفہ

اس کے ساتھ ہی عدالت نے دورانِ عدت نکاح کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔

سماعت دوبارہ شروع

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یقین ہے کہ عدالت کسی بھی پریشر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ نہیں کرے گی، صحافی نے کال کر کے پوچھا ایسے اور کیسز بھی موجود ہیں یا نہیں ، یہ فیصلہ بتائے گا کہ کیا ہم نے لوگوں کو اجازت دینی ہے کہ عدت میں شادی کر لیں؟

جج افضل مجوکا نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات ہیں کہ 30 دن میں فیصلہ کرنا ہے، ورکنگ ڈیز کا ذکر نہیں، عدالت نے ملزمان کی دونوں چارجز 496 اور 496 بی میں طلبی کی تھی؟

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ جی دونوں چارجز میں طلبی ہوئی تھی، 496 بی میں 2 گواہان کی ضرورت ہوتی ہے۔

جج افضل مجوکا نے سوال کیا کہ عدالت نے ریکارڈ دیکھ کر طلب نہیں کیا تھا کیا؟

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ عدالت نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جیل ٹرائل کا حکم دیا تھا، حکومت مخالف ہو یا حق میں، اس کی ذمے داری ہے کہ سابق وزیرِ اعظم کو سیکیورٹی دے، ہم پر تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے، جب سے اس عدالت میں کیس آیا دوسری طرف سے تاخیر کی جا رہی ہے، الزام لگایا گیا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے چالان کی کاپیاں نہیں دیں، یہاں آرڈر میں لکھا ہوا ہے کہ کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

ججز کی میمز بنا دی جاتی ہیں، مذاق اڑایا جاتا ہے: وکیل خاور مانیکا

دورانِ سماعت خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے جج افضل مجوکا کی وائرل تصاویر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی میمز بنا دی جاتی ہیں، مذاق اڑایا جاتا ہے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ میں نے حال ہی میں 4 دن میں ٹرائل مکمل کیا ہے۔

کل سے میری میمز بھی بنائی جا رہی ہیں: وکیل خاور مانیکا

خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ فردِ جرم بشریٰ بی بی کی موجودگی میں عائد نہیں کی گئی، بشریٰ بی بی کو فردِ جرم عائد کرنے کے لیے بار بار طلب کیا گیا، مگر وہ پیش نہیں ہوئیں، میری التواء کی درخواست مسترد ہوگی تو میں آج عدالت کے سامنے پیش ہوں گا، اس کو اگر دیکھیں تو کون بھاگ رہا تھا؟ تاخیری حربے کون استعمال کر رہا ہے؟ کل سے میری میمز بھی بنائی جا رہی ہیں۔

میمز اس لیے بنائی گئیں کہ پریس کانفرنس میں گیم کھیل رہے تھے: عثمان گل

عثمان ریاض گل نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میمز اس لیے بنائی جا رہی ہیں کہ آپ اہم پریس کانفرنس کے دوران گیم کھیل رہے تھے۔

سماعت کل صبح تک ملتوی

اس کے ساتھ ہی اسلام آبادکی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عدت میں نکاح کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی۔

Leave a Comment