حکومت سندھ کا لاک ڈاؤن کیلیے پاک فوج تعینات کرنے کا مطالبہ | پاکستان

0
30


حکومت سندھ نے  صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے لیے وفاقی حکومت سے فوج کو تعینات کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

سندھ میں آج رات 12 بجے سے لاک ڈاؤن کا امکان ہے جس کا باضابطہ اعلان آج دوپہر تک متوقع ہے۔ 

صوبے میں لاک ڈاؤن کے لیے  محکمہ داخلہ سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط ارسال کر دیا ہے جس میں لکھا گیا کہ سندھ میں پاک فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے بھیجا جائے۔

 یہ مراسلہ کوروناکے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کے پیش نظر بھیجا گیا ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس اہم اور بڑے فیصلے پر قانون نافذ کرنے والے حکام کو اعتماد میں بھی لے لیا ہے۔

مراد علی شاہ نے گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان اور پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کورونا وائرس کی صورتحال میں تعاون کی اپیل کی۔

لاک ڈاؤن کی صورت میں عوام کو  بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے یا گاڑی سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہو گی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خلاف ورزی کرنے والوں کو حراست میں لے سکیں گے۔

میڈیکل اسٹورز، کریانہ اسٹورز،کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں اور دوا ساز فیکٹریاں کھلی رہیں گی اور ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سے کھانے پینے کی اشیا کی گھروں پر ڈیلیوری کی جا سکیں گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے 644 کیسز میں سے سب سے زیادہ 292  کیسز سندھ سے آئے ہیں جن میں سے کراچی میں ایک مریض جاں بحق بھی ہو چکا ہے جب کہ 3 مریض شفایاب ہو چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث گذشتہ روز شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ رضا کارانہ طور خود کو 3 دن کے لیے آئسولیشن میں رکھ لیں اور گھر سے باہر نہ نکلیں۔

تاہم وزیراعلیٰ سندھ کی اپیل کے باوجود شہر میں پبلک اور پرائیوٹ ٹرانسپورٹ عام حالات کی طرح چلتی رہی اور مختلف علاقوں میں چائے کے ہوٹل کھلے اور شہری ان پر موجود رہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی اپیل کے بعد جمعہ کی رات سے شہر کی مختلف شاہراہوں پر رینجرز کی نفری تعینات کر دی گئی تھی، رینجرز اہلکار غیر ضروری طور پر باہر نکلنے والے شہریوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here