حفاظتی لباس نہ ہونے کے باعث متعدد ڈاکٹرز اور نرسز کورونا کا شکار | پاکستان

0
17


پنجاب میں اب تک 9 ڈاکٹراور5نرسز کورونا وائرس کا شکار ہو چکی ہیں،متعدددیگر ڈاکٹروں کی رپورٹس کابھی انتظار ہے— فوٹو: فائل

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں تاہم انہیں اس مہلک وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی لباس اور دیگر سامان مناسب تعداد میں نہیں دیے گئے جس کی وجہ سے اب تک متعدد ڈاکٹرز اور نرسز وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن (وائی ڈی اے)پنجاب کاکہناہےکہ اب تک صوبےمیں9 ڈاکٹراور5نرسز کورونا وائرس کا شکار ہو چکی ہیں،متعدددیگر ڈاکٹروں کی رپورٹس کابھی انتظار ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کےاسپتالوں میں حفاظتی لباس کی کمی بد ستور جاری ہے۔

اپنے ایک بیان میں وائی ڈی اے پنجاب کےصدرڈاکٹر سلمان حسیب نےبتایا کہ کورونا مریضوں کا علاج کرتے ہوئے گجرات میں 5، ڈیرہ غازی خان میں 2 جبکہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ، اورڈی ایچ کیو راولپنڈی میں ایک، ایک ینگ ڈاکٹر کورونا کا شکار ہو چکے ہیں ،متعدددیگرڈاکٹروں میں بھی کورونا کا شبہ ہے ،جن کی رپورٹس کا انتظار ہے،5 نرسز میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہےجبکہ 10 سے زیادہ نرسز میں علامات ہیں۔

ان کاکہناتھاکہ پنجاب اس وقت ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے خطرناک ترین صوبہ بن چکا ہے۔

ادھر بلوچستان میں بھی کورونا وائرس کےخلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے لئے حفاظتی کٹس اور بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ میں پانچ ڈاکٹرز اس وائرس کا شکار بھی ہوچکے ہیں اور بہت سوں کو اس وائرس کےلگنے کا اندیشہ ہے۔

بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ بیشتر افراد شیخ زاید اسپتال کوئٹہ میں زیرعلاج ہیں جہاں کسی حد تک ڈاکٹروں اور طبی عملے کےلیے حفاظتی کٹس کا بندوبست ہے تاہم صوبے کےدیگر اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں طبی عملہ ان سے محروم ہے۔

ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ جتنے ماسک اور گلوز ہیں وہ اپنے پیسوں سے لے رہے ہیں اوراب وہ مارکیٹوں میں بھی نہیں مل رہے۔ دوسری جانب صوبائی حکام ہیں کہ بس دعووں سے کام لے رہے ہیں۔

چیف سیکرٹری بلوچستان فضیل اصغر کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسپتالوں میں حفاظتی کٹس، طبی آلات،ماسک اورسینیٹائرزکا انتظام کیا ہے، ڈاکٹرز کےلیے 60 ہزار مزید پی پی ای چند روز میں کوئٹہ پہنچ جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی عملے کو ضروری سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے اگریہ نہ کیا تو یہ ایسے ہی ہوگا کہ سپاہیوں کو بغیر ہتھیار کےمیدان جنگ میں اتار دیاجائے۔

خیال رہے کہ پاکستان بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جب کہ مزید کیس سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 2081 تک جا پہنچی ہے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here