جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت3 مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج

(جمال الدین جمالی) انسداد دہشتگردی عدالت نےسابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)عمران خان کے خلاف جناح ہاؤس حملہ کیس، تھانہ شادمان آتشزدگی کیس، اور عسکری ٹاور حملہ کیس میں دائر کردہ عبوری ضمانت خارج کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت( اے ٹی سی )  میں  9 مئی کو تھوڑ پھوڑ اور شر انگیزی کرنے کے الزام بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر3 مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی،  جناح ہاؤس حملہ کیس، تھانہ شادمان آتشزدگی کیس، اور عسکری ٹاور حملہ کیس کے حوالے سے انسداد دہشگردی عدالت میں جج خالد ارشد  نے کیسز  کی سماعت کی،  ملزم کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری نہیں ہو سکی سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ  انٹرنیٹ سروس نہ چلنے سے ویڈیو لنک پر حاضری نہیں ہوئی،کیس کے دوران دلائل دیتے ہوئے پراسیکیوٹر رانا ازر  اور  سپیشل پراسکیوٹر رانا عبدالجبار نے ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی،سرکاری وکیل نے کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملہ اور کیپیٹل ہل حملہ  کی طرز کا کیس ہے،امریکہ کے ان  کیسز میں  سازش اور معاونت کرنے والوں کو بھی سزا ملی ۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 9مئی کو جیل میں تھے اور جلاؤ گھیراؤ سے لاعلم تھےاور جب وہ رہا ہوئے تو واقعات کی مزمت بھی کی،انہوں نے کہا کہ  سازش اور معاونت جرم کا الزام ثابت نہیں ہوتا ،یہ کیسز سیاسی نوعیت کے ہیں اسی طرح کے دیگر مقدمات میں عبوری ضمانت کنفرم ہو چکی ہیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج خالد ارشد  نے فیصلہ سناتے ہوئے تینوں مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانتوں کو خارج کیا،انسداد دہشتگردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی عبوری ضمانتوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ عمران خان  نے گرفتاری سے پہلے جناح ہاؤس حملہ کیس عسکری ٹاور حملہ کیس اور تھانہ شادمان نزر آتش کیس میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھیں۔ 

 یہ بھی پڑھیں: عدت میں نکاح، خاور مانیکا کھل کر بول پڑے، چیف جسٹس سے اہم مطالبہ کر دیا

Leave a Comment