Saturday, March 2, 2024
Online Free Business listing Directory to Grow your Sales
HomeLatest Breaking newsبینکوں کی طرف سے عدم تعاون، گوشوارے جمع کرنے میں صارفین کی...

بینکوں کی طرف سے عدم تعاون، گوشوارے جمع کرنے میں صارفین کی مشکلات


ٹیکس فائلر کے لیے ایف بی آر کی جانب سے متعدد رعایتیں دی گئی ہیں (فوٹو: ایف بی آر ٹوئٹر)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے گزشتہ مالی سال کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 نومبر رکھی گئی ہے اس لیے بدھ کو بینکوں میں صارفین کا پچھلے سال کی بینک سٹیٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے رش لگا رہا، تاہم کئی بینکوں پر عدم تعاون کے باعث صارفین مشکلات کا شکار ہیں۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں بینک اسلامی سے اپنی بینک سٹیٹمنٹ لینے کے لیے آنے والے ایک صارف کا کہنا تھا اسے منیجر کی طرف سے کہا گیا کہ آپ صرف اس برانچ سے سٹیٹمنٹ لے سکتے ہیں جہاں آپ کا اکاؤنٹ ہے۔
مگر میرے کئی اکاونٹس تو کراچی میں ہیں اور میں اسلام آباد میں جاب کرتا ہوں ایسے میں گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ کو کیا مجھے اس پالیسی کے تحت کراچی جانا پڑے گا؟‘
بینک سے اس پالیسی پر شکایت کرنے پر منیجر نے انہیں متعلقہ فورمز پر شکایت کرنے کا کہا۔ منیجر کے مطابق بینک نے کچھ دن پہلے پالیسی تبدیل کر کے اب متعلقہ برانچ سے رابطہ ضروری کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیجیٹل دور میں جب کہ حکومت ہر چیز میں آئی ٹی کو فروغ دے رہی ہے، بینکوں کا یہ رویہ انتہائی حیرت انگیز اور تشویشناک ہے۔
ایک اور صارف نے اردونیوز کو بتایا کہ بینک کا عملہ عام طور پر صرف اسی صورت میں سٹیٹمنٹ دیتا ہے جب آپ کا اکاؤنٹ اسی برانچ میں ہو، تاہم اگر کوئی کسٹمر سٹیٹ بینک کو شکایت لگانے کی دھمکی دے تو اس صورت میں اسے دوسری برانچ سے بھی بینک سٹیٹمنٹ دے دی جاتی ہے۔
سٹیٹ بینک کا موقف
اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے بتایا کہ مرکزی بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بینک سٹیٹمنٹ ضرور دیں اور اس کے علاوہ بھی زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے کمرشل بینک ای میل پر بھی سٹیٹمنٹ دے دیتے ہیں اور موبائل ایپس کے ذریعے بھی اپلائی کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق ہر برانچ سے سٹیٹمنٹ دینا یا نہ دینا بینکوں کی سروس کا معاملہ ہے جو شاید سٹیٹ بینک کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور اس پر مرکزی بینک متعلقہ براچ کو سزا نہیں دے سکتا۔

ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق اگر صارفین کو کسی بینک کی سروسز غیر معیاری لگیں تو وہ دوسرے بینکوں میں جا سکتے ہیں (فوٹو: پرو پاکستانی)
اگر صارفین کو کسی بینک کی سروسز غیر معیاری معلوم ہوں تو وہ دوسرے بینکوں میں جا سکتے ہیں اس طرح مسابقتی ماحول میں بہتر سروسز والا بینک ہی کامیاب ہوتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بینک سالانہ سٹیٹمنٹ دینے سے انکار کرے تو اس پر سٹیٹ بینک میں شکایت  کی جا سکتی ہے اور اس بینک کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہ شکایت کی صورت میں صارف کو پہلے بینک ہی کے اعلی حکام کو آگاہ کرنا چاہیے اور اگر وہاں سے مدد نہ ملے تو سٹیٹ بینک سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی گئی تھی اور 30 نومبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔  
پاکستان میں رہنے والا ہر ایک شخص چاہے تنخواہ دار ہو یا کاروباری، اس پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق نمبر 114 کے تحت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانا لازمی ہے اور ٹیکس فائلر کے لیے ایف بی آر کی جانب سے متعدد رعایتیں دی گئی ہیں۔





Source link

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments