برطانیہ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں آزاد امیدوار کیوں جیتے؟

پولنگ کے وقت کے مناظر---- تصویر بشکریہ غیرملکی میڈیا
پولنگ کے وقت کے مناظر—- تصویر بشکریہ غیرملکی میڈیا

برطانیہ کے انتخابات میں لیبر پارٹی جیت تو گئی لیکن وہ مسلمان اکثریت والے علاقوں سے نہ جیت سکی اور نہ ہی زیادہ ووٹ حاصل کرسکی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق غزہ کے حامی کئی آزاد امیدواروں نے لیبر پارٹی کے امیدواروں کو ان کے مضبوط حلقوں میں شکست دے دی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق 10 فیصد سے زیادہ مسلمان آبادی والے علاقوں میں لیبر پارٹی کے امیدواروں کے ووٹوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بڑی مسلم آبادی والی 5 نشستیں لیبر پارٹی کو نہ مل سکیں، ان میں سے 4 آزاد امیدواروں نے اور ایک کنزرویٹیو امیدوار نے جیتی۔

شیڈو منسٹر جوناتھن اشورتھ لیسٹر ساؤتھ سے سیٹ ہار گئے جو کہ 13 سالوں سے ان کے پاس تھی، یہاں تقریباً 30 فیصد آباد مسلمانوں کی ہے۔

اس مرتبہ یہاں سے شوکت آدم نے کامیابی حاصل کر کے اسے غزہ کے نام کردیا۔

علاوہ ازیں برمنگھم پیری بار سے لیبر پارٹی کے خالد محمود کو آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔

آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے سخت مقابلے کے بعد صرف 500 ووٹوں کے مارجن سے کامیابی حاصل کی۔

خالد محمود 2001ء سے برمنگھم پیری بار سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے چلے آ رہے تھے اور وہ سینئر ترین مسلمان پارلیمنٹیرین تھے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق غزہ جنگ کو اپنی انتخابی مہم میں شامل کرنے والے آزاد امیدواروں نے کئی بڑے اور مضبوط ناموں کو شکست دی۔

ڈیوزبری، بٹلی اور بلیک برن میں بھی آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جہاں پہلے لیبر پارٹی مضبوط تھی۔

اس کے علاوہ بھی کئی مسلم اکثریت والی جگہوں سے لیبر پارٹی کی کارکردگی خاص نہیں رہی اور ان علاقوں سے سینئر امیدواروں نے اکثریت کھونے کے بعد بمشکل اپنی سیٹ بچائی۔

Leave a Comment