’برصغیر کی تاریخ کا واحد کیس ہے جس میں چیئرمین نیب کو گرفتاری کی اتنی جلدی تھی‘ | پاکستان

0
30


ریکارڈ دکھائیں اور بتائیں کب ایل ڈی اے کو قبضہ ملا: عدالت کا نیب کے تفتیشی افسر کو حکم۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف کے خلاف نیب کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست پر احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

میر شکیل الرحمان کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جواد الحسن نے کی۔

دوران سماعت میرشکیل الرحمان کے وکیل نے استدعا کی کہ اپنے مؤکل سے مشاورت کرنے کے لیے کچھ وقت فراہم کیا جائے ، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کو مشاورت کرنےکا حق حاصل ہے۔

عدالت نے میر شکیل الرحمان اوران کے وکیل کو آپس میں مشاورت کی مہلت فراہم کرنے کی استدعا منظورکرتے ہوئے سماعت کچھ دیرکےلیےملتوی کر دی۔

احتساب عدالت میں نیب پراسکیوٹر کے دلائل مکمل

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا کہ میر شکیل الرحمان کو جو زمین فراہم کی گئی وہ غیرقانونی طورپر ٹرانسفر کی گئی، ایل ڈی اے نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کے حکم پر زمین دی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس وقت ایل ڈی اے سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے بیک وقت زمین میر شکیل الرحمان کے نام کرنے کا حکم دیا، ایل ڈی اے کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں ان کا خیال نہیں رکھا گیا۔

پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ میرشکیل الرحمان کو زمین تین مختلف جگہوں پر الاٹ کی گئی، میر شکیل الرحمان نے غیرقانونی طورپر یہ زمین ایک جگہ پرالاٹ کروائی۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کے مطابق دلائل دیں سیاسی باتیں نہ کریں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے کو بلوایا تھا، سابق ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ انہیں تمام ریکارڈ فراہم کر دیں، وہ تمام ریکارڈ دیکھ کرتفصیلی جواب دیں گے۔

نیب کے تفتیشی افسر نے میر شکیل الرحمان کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی جس پر میر شکیل الرحمان کے وکیل نے کہا کہ مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع نہ دی جائے، ایسا کونسا قتل کا کیس ہے جس میں آلہ قتل برآمد کرنا ہے۔

عدالت نے نیب افسر سے پوچھا کہ پٹواری نے ایل ڈی اے کو قبضہ کب دیا؟ پہلے ایل ڈی اے کو قبضہ ملے گا تب ہی ایل ڈی اے آگے زمین منتقل کرے گا۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کو جسمانی ریمانڈ اب کیوں چاہیے؟ جس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور میرشکیل الرحمان کے ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے۔

عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے کہا کہ ریکارڈ دکھائیں اور بتائیں کب ایل ڈی اے کو قبضہ کب ملا۔

چیئرمین نیب نے اپنے ہی بنائے قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں: وکیل میر شکیل

میر شکیل الرحمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کی تاریخ میں پہلی بار ایسا کیس سامنے آیا ہے، چیربمین نیب نے ذاتی طور پر میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اپنے ہی بنائے گئے قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ میر شکیل الرحمان تمام ریکارڈ نیب کو فراہم کرچکے ہیں، میر شکیل الرحمان کو جب بھی نیب نے بلوایا وہ پیش ہوئے لیکن نیب نے قانون سے آگے جا کر کارروائی کی۔

جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف کے وکیل نے اپنے دلائل میں سوال کیا کہ تفتیش کے دوران گرفتاری کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟ یہ واحد کیس ہے جس میں چیئرمین نیب کو اتنی جلدی تھی۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری بادی النظرمیں غیرقانونی تھی، برصغیر کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انکوائری پر گرفتار کر لیا جائے۔

احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یاد رہے کہ نیب نے میر شکیل الرحمان کو پرائیوٹ پراپرٹی کیس میں 12 مارچ کوگرفتار کیا تھا اور پھر اگلے ہی روز ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا تھا۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here