اگر دشمن ملک سے بات ہوسکتی ہے تو سیاست دانوں سے کیوں نہیں،چیف جسٹس کا بانی پی ٹی آئی سے مکالمہ 

(امانت گشکوری)نیب ترامیم کیس میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بانی پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ خان صاحب تمام مسائل سیاست دان خود حل کر سکتے ہیں،سیاست دان آپ کے دشمن نہیں ہیں،اگر دشمن ملک سے بات ہوسکتی ہے تو سیاست دانوں سے کیوں نہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی سے مکالمہ  کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے آپ بھی کبھی اقتدار میں آئیں گے سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل کریں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ کرپشن کی بات کی گئی تو سب کو مل کر اسے روکنا ہوگا،ملک میں پیسے نہیں ہونگے تو حکومت بھی کوئی نہیں لے گا،فاروق ایچ نائیک اور فیصل جاوید بیٹھے ہیں یہ سب سیاست دان مل کر مسائل حل کر سکتے،

بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ دبئی لیکس میں بھی نام آچکے پیسے ملک سے باہر جارہے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ خان صاحب آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں، حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں،جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پانی پاک ہے ناپاک پہلے آپ آگ تو بجھائیں،بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ بھارت میں کیجریوال کو رہا کیا گیا سزا معطل کرکے الیکشن لڑنے دیاگیا،مجھے پانچ دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کر دیا گیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ تو سیاسی نظام کس نے بنانا تھا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں،بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا لگا ہواہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کچھ بھی ہوگیا تو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا،ہم آپ کی طرف دیکھ رہے آپ ہماری طرف دیکھ رہے۔

بانی پی ٹی آئی نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے روک دیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سائفرکیس میں شاید اپیل ہمارے سامنے آئے،بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ میں زیر التوا کیس کی بات نہیں کررہا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہمارا یہی خدشہ تھا کہ زیر التوا کیس پر بات نہ کر دیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ یہی وجہ بتانا چاہتاہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے،شرح نمو چھ عشاریہ دو پر تھی حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی،پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ  ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے،ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ فاروق نائیک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے،ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ خان صاحب آپ سارا دن بہت تحمل سے بیٹھے،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس کی سماعت مکمل کر لی،عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،عدالت نے کہاکہ جلد کیس کا فیصلہ سنائیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں: نیب ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی مگر ۔۔۔عمران خان نے سنگین خدشے کا اظہار کردیا

Leave a Comment