اپنی ’سیاسی تاریخ‘ سے کب سیکھیں گے؟

اپنی سیاسی تاریخ سے سبق سیکھنا ہماری عادت نہیں ہے۔ سبق یاد بھی اُسی وقت آتا ہے جب اپنا مفاد پیشِ نظر ہو۔ انتہائی معذرت کیساتھ اِس حمام میں سبھی عریاں ہوچکے ہیں کیا سیاستدان، اسٹیبلشمنٹ، اعلیٰ عدلیہ یہاں تک کہ میڈیا بھی اور یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم اپنی سمت کا تعین نہیں کر پائے ۔ وہ کہا تھا نا کسی نے

حق اچھا پر اس کیلئے کوئی اور مرے تو اور اچھا

تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہو

پاکستان حاصل کیا تو ایک جمہوری جدوجہد سے، قرارداد پیش کی تو ایک سیاستدان نے، منظور کی تو منتخب اسمبلی نے مگر آج ہمیں یہ سب یاد نہیں، مفاد آڑے آیا توبانی پاکستان کی 11اگست1947 ء کی تقریر پر سوال اٹھا دیا، کچھ نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ ایسی کوئی تقریر ہوئی نہیں۔ جناح چند سال زندہ رہ جاتے تو خود مسلم لیگی اُن پر ’’غداری‘‘ کا الزام لگا دیتے جیسا کہ انہوں نے بنگال کی مسلم لیگ کیساتھ کیا۔ غیرجمہوری لوگوں نے نہ پاکستان میں زرعی اصلاحات ہونے دیں نہ ہی آئین و قانون کی حکمرانی۔ انگریزوں نے جتنے قوانین تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے بنائے تھے وہ ہم نے اپنا لئے اور آج تک وہی سوچ ہے۔ جس سے آزادی حاصل کی تھی وہ جمہوری ہوگیا ہم غیرجمہوری سفر پرگامزن اور ماشاء اللہ آج تک پلٹ کر غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ ذکر بھی اُس وقت کرتے ہیں جب اپنا اقتدار جاتا ہے یا برقرار رکھنا ضروری ہوتاہے ۔ جنہیں آج سانحہ 1971ء یاد آ رہا ہے، حمود الرحمٰن کمیشن کی یاد ستارہی ہے وہ یہ تو بتائیں انہوں نے خود کیا سبق سیکھا ہے کہ آج بھی بات ’غیر سیاسی‘ لوگوں سے ہی کرنا چاہتے ہیں۔ اور جو حکمران طبقہ اُنہیں ’غدار‘ قرار دینے پر مصر ہے یہ تو بتائے کہ آخر ماضی میں کن کن کواِ ن القاب سے نوازا گیا اور پھر حشر کیا ہوا۔ سیاسی تاریخ کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اگر 1954ء سے سبق سیکھا ہوتا جب بائیں بازو اور قوم پرستوں کے اتحاد ’جگتو فرنٹ‘ نے مسلم لیگ کو دوتہائی اکثریت سے شکست دی، اُن نتائج کو کُھلے دِل سے تسلیم کیا جاتا تو نہ’نظریہ ضرورت ‘ آڑے آتا، نہ 1958ء کا مارشل لا لگتا نہ و ن یونٹ قائم ہوتا اور نہ ہی سانحہ مشرقی پاکستان جنم لیتا ۔ 

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستین

اُس کوخبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

1971ء سے سبق سیکھا ہوتا تو 1977ء جنم نہ لیتا۔ البتہ اتنا ضرور ہوا کہ سیاستدانوں نے 1973ء کا آئین متفقہ بنایا اورپھر خود ہی انسانی حقوق سلب کرکے اُس کی خلاف ورزی کی بُنیاد رکھی ۔ یہ بھی ہواکے 77 کے انتخابات پرسوال اُٹھا توپہلے ریاستی جبر سے اپوزیشن کودبانے کی کوشش کی مگر پھر دونوں فریقوں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اوراپوزیشن کے پاکستان قومی اتحاد نے بات چیت کاآغاز کیا۔ دونوں ہی طرف ’چندکالی بھیڑوں ‘نے مذاکرات کی کامیابی میں ’جنرل ضیاء‘ کے کہنے پر معاملات خراب کئے جس میں مولانا کوثرنیازی ،اصغر خان اورکچھ دیگرکامشکوک کرداررہاتاہم اُسکے باوجود بھٹو استعفیٰ دینے ، عبوری حکومت اورنئے انتخابات کروانے پر تیار ہوگئے اور … پھر مارشل لالگ گیااور’کالی بھیڑوں ‘ نے مٹھائی تقسیم بھی کی اورکھائی بھی ۔ پی این اے بھی کچھ عرصہ بعدتقسیم ہوئی اورپی پی پی بھی ۔ پھر ان سب کوانتظارتھا بھٹوکی پھانسی کا مگر وہ بے خبر رہے اُس گھڑی سے… ضیاء کے دورکو بھی اعلیٰ عدلیہ نے نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا۔

ہم نے پھر بھی سبق نہ سیکھا۔ جیسے تیسےایم آر ڈی کی تحریک کااثر سندھ میں بہت گہرا ہوا کیونکہ صوبہ پہلے ہی بھٹو کی پھانسی سے زخمی تھا۔ ضیاء نے غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کرائے اور سندھ سےہی ایک سیاستدان محمد خان جونیجو کویہ کہہ کر وزیراعظم بنایا کہ صوبہ کااحساسِ محرومی کم ہوگا۔ اُس نے اپنی پہلی ہی تقریر میں خود ضیاء کوحیران وپریشان کردیا،یہ کہہ کرکہ مارشل لا اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ جونیجو کی حکومت کی برطرفی پر ’جمہوری قوتیں ، جونیجو کے ساتھ کھڑی ہوتیں مگر کچھ نے خاموش رہ کر اورکچھ نے اپنےمفاد میں جنرل ضیاء کا ساتھ دیا۔ 17؍اگست ، 1988ء نہ ہوتاتو کیاخبرہم آج بھی ضیاء دور میں ہی زندہ ہوتے ۔ کئی حوالوں سے تووہی دورہے ۔سبق تو پھر بھی نہیں سیکھا اور ایک تاریخی سیاسی جدوجہد کا اختتام غیر سیاسی قوت کو ’تمغہ جمہوریت‘ دیکر ہوا نتیجہ میں اسلامی جمہوری اتحاد کے خالق کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا اور ایک لولی لنگڑی حکومت لے لی گئی بشمول ضیاء کی سیاسی باقیات کے ۔18 ماہ میں بے نظیر بھٹّو شہید کی حکومت ختم کردی گئی کیونکہ (B) 2-58 برقرار رکھنے کی شرط تھی۔ ہم نے پھر بھی سبق نہیں سیکھا۔ آج میاں نواز شریف کہتے ہیں اگر میری حکومت 1990ء میں چلنے دی جاتی تو آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا مگر یہ بھی تو بتائیں کہ بینظیر بھٹو کیخلاف اور اقتدار میں آنے کیلئے آپ نے کیا کیا ۔ آدھا سچ، گمراہ کُن ہوتا ہے۔ 1993ء میں ’ڈکٹیشن نہیں لوںگا‘ کہہ کر اس پر کھڑے کیوں نہ ر ہ پائے۔ کاش بی بی بھی اُس تقریر کیساتھ کھڑی ہوتیں تو عین ممکن ہے کہ صدر غلام اسحاق خان کو ہی جانا پڑتا۔ 1996ء میں بینظیر کی حکومت گئی تو میاں صاحب نے جشن منایا، ’نتیجہ‘ دوتہائی اکثریت بھی نہ سنبھالی جاسکی۔ اِن دونوں فریقوں کی لڑائی میں ایک تیسرے کو انٹری دلوائی گئی پہلے جنرل حمید گل کے زیرسایہ، پھر جنرل پرویز مشرف کے۔ 1971ء کا سبق تو یہ تھا کہ عمران خان اپنے دونوں سیاسی حریفوں کی بھرپور مخالفت کرتے مگر 12؍اکتوبر کے اقدام کی بھی مذمت کرتے، 2001ء میں مشرف کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرتے اور2002ء میں نواز، بینظیر کو الیکشن سے باہر رکھنے پر مشرف کا ساتھ چھوڑ دیتے۔ مشرف سے دوری اختیارکی وہ بھی اُس وقت جب اُس نے چوہدریوں پرہاتھ رکھا۔ یہاں بھی اعلیٰ عدلیہ نے ’نظریہ ضرورت ‘ کوزندہ رکھا۔ بینظیر اور نواز شریف نےپہلا سبق سیکھتے ہوئے 2006ء میں تاریخی ’میثاقِ جمہوریت ‘ کیا۔ اگر اُن نکات پر دونوں کھڑے رہتے تو کیا پتا بی بی بھی درمیان میں ہوتی اور وہ دِن نہ دیکھنا پڑتا کہ ایک آمر کو ’’ریڈکارپٹ‘‘ طریقہ سے رُخصت کیا جا رہا ہوتا۔ 2008ء سے 2024ء کے درمیان جو کچھ ہوا اُسکا بنیادی سبق یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں، آئین و قانون کی حکمرانی ہوگی تو حکمرانوں کا قانون نہیں چلے گا۔ قانون کااطلاق سب سے پہلے قانون بنانے والے پر ہوگا تو ہی قانون کی حکمرانی ہوگی۔ عمران خان تو 2013ء کی حکومت کو بھی نہیں مانتے تھے۔ مگر بات کی تو راستہ نکالا۔ پی پی پی نے تاریخ سے کچھ سبق سیکھا تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی کسی غیر آئینی اقدام کی مخالفت کی آج کاسبق بھی یہی ہے عمران مقبول ترین سیاستدان ہے۔ 8؍فروری کوتمام ریاستی حربوں کے باوجود ووٹرنے عملاً ’’ووٹ کوعزت دی‘‘ تو اسے قبول کرنے میں کیا قباحت ہے۔ عمران بھی سیاسی حقیقت ہے اور نواز، زرداری بھی۔ ہمیں 1971ء یا 77ء، یا 12 اکتوبر یا 9؍ مئی کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنی اپنی غلطیوں کو تسلیم کر ناچاہئے۔ عمران خان تاریخ سے سبق سیکھ کر حکمران جماعت یا اتحاد سے 8؍ فروری کے الیکشن اور سیاست میں  اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کیخلاف مذاکرات کا آغاز کریں۔ یہ تو وہ سبق تھے جو بڑی سیاسی جماعتوں کو سیکھنے چاہئیں ۔ ایک ایک سبق ِ’اداروں‘ اور’عدلیہ‘ کو سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ خُدارا مبینہ ’سیاسی سیل‘ بند کردیں۔ ’پروجیکٹ فیکٹری‘ عوام کومنتقل کردیں۔ پاکستان کے چاروں ستون ذرا ٹھنڈے مزاج سے غور کریں تو سمجھ آجائیگا کہ ہم نے ملک تو بنا لیا مگر چلا نہیں سکے۔ آخر کیوں؟۔

Leave a Comment